حکومت کی جانب سے فیس کی رقومات ادا کرنے میں ناکامی کے بعد فیصلہ ۔ انتظامیہ کو شدید مشکلات کا ادعا
حیدرآباد 9 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں پروفیشنل کالجس اور ڈگری کالجس سے 13 اکٹوبر سے بند کو ملتوی کرنے کے بعد خانگی اسکولوں نے جو بیسٹ اویلیبل اسکول اسکیم BASS کے تحت داخلہ پانے والے طلبہ کو اسکول آنے سے روک دیا ہے اور سلسلہ تعلیم کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت سے 250 کروڑ کے بقایاجات کی عدم اجرائی پر بیسٹ اویلیبل اسکول انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اسکیم کے تحت جن طلبہ کو داخلہ دیا گیا انہیں اسکول آنے سے روک دیا جائے۔متحدہ آندھراپردیش میں حکومت نے 2008 میں ایس سی اور ایس ٹی طبقہ کے طلبہ کیلئے BASS اسکیم کا آغاز کرکے انہیں کارپوریٹ اسکولوں میں اعلیٰ معیاری تعلیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔تقسیم ریاست کے بعد بھی ایس سی ‘ ایس ٹی طبقہ کے طلبہ کو اس کے تحت کارپوریٹ اسکولوں میں مفت تعلیم دی جاتی رہی لیکن گذشتہ چند برسوں میں اس کے تحت تعلیم حاصل کررہے طلبہ کے بقایاجات اور فیس کی ادائیگی جو کہ حکومت سے کی جاتی ہے اس میں تاخیر کے نتیجہ میں یہ بقایا جات 250کروڑ تک پہنچ چکے ہیں اسی لئے اب اسکول انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ اس اسکیم کے تحت جن طلبہ کو داخلہ دیا گیا انہیں اسکول آنے سے روکا جائے ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت سے ایس سی اور ایس ٹی طلبہ کیلئے اسکیم ریاست بھر کے 227اسکولوں میں چلائی جا رہی ہے اور 25000 ہزار طلبہ مختلف اضلاع میں خانگی کارپوریٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن اب حکومت سے بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیر پر اسکول انتظامیہ معاشی بحران کا شکار ہونے لگے ہیں اسی لئے دسہرہ کی تعطیلات کے بعد اسکیم کے طلبہ کو اسکول واپسی سے روک دیا گیا ہے۔ اسوسیشن کے ذمہ داروں نے بتایا کہ گذشتہ 2برس میں حکومت سے اسکیم کے تحت ایک روپیہ بھی جاری نہیں یا گیا جس سے اسکول انتظامیہ قرض کے بوجھ تلے دبنے لگے ہیں اور ان کے پاس اب عمارتوں کا کرایہ ادا کرنے کوئی سہولت نہیں ہے اسی لئے انتظامیہ نے طلبہ کو اسکول آنے سے روک دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اور محکمہ تعلیم کے حکام اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ تیقن دے چکے ہیں لیکن رقومات کی اجرائی میں ناکامی کے بعد ہی یہ فیصلہ کیاگیا ہے۔3