زندگی بوجھ اگر بن گئی پھر کیا جینا
شوق جینے کا جو رکھتے ہو تو مرنا سیکھو
ملک کی مختلف ریاستوں میں آئندہ سال کے اوائل تک اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں گجرات ‘ گوا ‘ پنجاب اور اترپردیش بھی شامل ہیں۔ مختلف ریاستوں میں انتخابات کی اپنی اہمیت ہے تاہم اترپردیش کے انتخابات بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور اس بار بھی ان کی اہمیت میں اضافہ ہی ہوا ہے کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ اترپردیش میں اس بار بی جے پی کیلئے صورتحال کچھ نہیں بلکہ زیادہ مشکل ہوتی نظر آرہی ہے ۔ حالانکہ پارٹی قائدین کی جانب سے اس تعلق سے کوئی تبصرہ نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ ہی مشکل حالات کا اعتراف کیا جا رہا ہے تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پارٹی داخلی طور پر مشکلات پر غور ضرور کر رہی ہے اور اسے تاحال اپنی مشکلات سے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے ۔ پارٹی اس بار بھی فرقہ وارانہ کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاہم کہا جا رہا ہے کہ عوام میں فرقہ واریت کا زہر اس بار شائد بی جے پی کو وہ نتائج دلانے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا جو ہمیشہ اسے ملتی رہی ہیں۔ بی جے پی ہر بار انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دیتی ہے ۔ اصل مسائل کو عوام کی توجہ سے محو کردیا جاتا ہے اور پھر جذباتی نعروں کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرلئے جاتے تھے ۔ اس بار صورتحال بی جے پی کیلئے اس قدر آسان دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ خاص طور پر 2024 کے بعد بی جے پی کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ 2024 میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو جو شکست ہوئی ہے اس کی وجہ سے پارٹی کو مرکز میں اپنی اکثریت سے محروم ہونا پڑا تھا اور اسے مرکز میں اقتدار بچائے رکھنے حلیفوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے ۔ اترپردیش میں بی جے پی لوک سبھا نستیں کم ہونا 2014 کے بعد سے تقریبا نا ممکن سمجھا جا رہا تھا تاہم 2024 نے حالات کو بدل کر رکھ دیا ہے اور سماجوادی پارٹی اور کانگریس اتحاد نے جو جیت حاصل کی تھی اس سے بی جے پی کی صفوں میں بے چینی پیدا ہونی لازمی تھی اور وہ ہوئی بھی ہے ۔ پارٹی اس کا اعتراف کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ اب جبکہ انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے تو پارٹی کو اس جانب توجہ دینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔
لوک سبھا انتخابات میں ہونے والی شکست کے بعد بی جے پی کو امید تھی کہ وہ حالات کو بہتر بننے اور اپنے حق میں موافق کرنے میں کامیاب ہوجائے گی ۔ اسے اپنی فرقہ وارانہ سیاست پر کامل یقین تھا ۔ تاہم سی جے پی کے قیام اور دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج نے بی جے پی کے منصوبوں کو مشکوک بنادیا ہے ۔ بی جے پی نوجوانوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہو کر انہیں ورغلانے کا ریکارڈ رکھتی ہے ۔ تاہم جنتر منتر کے احتجاج کے بعد نوجوانوں پر فرقہ پرستانہ سوچ کو مسلط کرنے کی کوششیں شائد اتنی کامیاب نہیں ہونگی جتنی بی جے پی کی جیت کیلئے ضروری ہے ۔ نوجوانوں میں اب اپنے مستقبل اور کیرئیر کے تعلق سے فکر پیدا ہوئی ہے ۔ نوجوان اب یہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ مرکز میں کس شخصیت کی حکومت ہے بلکہ دیکھ یہ رہے ہیں کہ حکومت ان کیلئے کیا کچھ کر رہی ہے ۔ ان کی تعلیم کیلئے حکومت کا منصوبہ کیا ہے ۔ ان کی ملازمتوں کیلئے حکومت کے اقدامات کیا ہیں۔ نوجوانوں کے مستقبل کو تابناک بننے حکومت کے پروگرامس کیا ہیں۔ یہ نوجوان حکومت سے سوال کر رہے ہیں تاہم انہیں کوئی جواب نہیں مل رہا ہے ۔ پارلیمنٹ مانسون سشن میں کانگریس کی جانب سے لگاتار یہ مسئلہ اٹھایا گیا ۔ وزیر داخلہ اور وزیر اعظم دونوں ہی ایوان میں حاضر نہیں ہوئے ۔ اس سے بھی نوجوانوں میں یہی تاثر عام ہوگیا ہے کہ حکومت اب بھی سوال کا جواب دینے تیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ نوجوانوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر ہونے والے اعتراضات کو خاطر میں لانے تیار نظر آتی ہے ۔
رام مندر میں چندہ اور چڑھاوا چوری کا مسئلہ بھی بی جے پی کیلئے انتخابات میں مشکل کا باعث بن سکتا ہے ۔ سماجوادی پارٹی اس مسئلہ کو عوام سے رجوع کرتے ہوئے بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈہ کو کمزور کرنے کی حکمت عملی کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ بی جے پی اپنی مشکلات پر قابو پانے کیلئے کیا کچھ منصوبہ بندی کرتی ہے یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا ۔ تاہم یہ ضرور دکھائی دے رہا ہے کہ حالات بی جے پی کیلئے اس قدر آسان نہیں ہیں جتنا بی جے پی سمجھ رہی تھی ۔ اسے اس بار شائد کوئی کرشمہ ہی عوامی ناراضگی سے بچا سکتا ہے ۔
عوام مہنگائی کیلئے تیار رہیں
مرکزی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ادائیگیوں پر ٹیکس عائد کردیا گیا ہے ۔ 2000 روپئے سے زائد کی ادائیگی پر تاجر کو 0.4 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔ حکومت کا دعوی ہے کہ اس سے گاہک پر کوئی اثر نہیں ہوگا بلکہ تاجر یہ ٹیکس ادا کرے گا ۔ تاہم ملک کے عوام سمجھ رہے ہیں کہ تاجر کوئی عوام یا گاہک پر رحم نہیں کرے گا بلکہ وہ عوام سے ٹیکس وصول کریگا اور حکومت کو ادا کرے گا ۔ یہ بھی اندیشے بے بنیاد نہیں ہیں کہ تاجر کو جو ٹیکس ادا کرنا ہوگا وہ اس سے زیادہ رقم گاہک سے وصول کرلے گا ۔ اس طرح حکومت کے دعووں کے برخلاف جو مالی بوجھ ہوگا وہ عوام پر ہی عائد ہوگا ۔ فیول پر بھی ایک حد تک ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے اثرات دوسری اشیاء کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونگے ۔ ملک کے عوام پہلے ہی بے تحاشہ مہنگائی سے متاثر ہیں اور ان کا گھریلو بجٹ درہم برہم ہے ۔ ایسے میں اب عوام کو آئندہ مہینے سے یو پی آئی ادائیگیوں پر ٹیکس کے بعد مہنگائی کی تازہ مار کیلئے تیار رہنا پڑے گا بھلے ہی حکومت جھوٹی تسلیاں دیتی رہے ۔