احتجاجی کسانوں کا 18 ڈسمبر کو ریل روکو احتجاج ‘ راکیش ٹکیت کو مکتوب

,

   

کسان آندولن میں شمولیت اور اختلافات فراموش کرنے پر زور ۔ پنجاب کے عوام سے پٹریوں پر آنے کی اپیل

نئی دہلی : احتجاجی کسانوں نے دارالحکومت دہلی میں داخل ہونے مرکز پر دباؤ بنانے آج کچھ نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے ۔ کسانوں کی جانب سے دہلی میں داخلہ کی کوششوں کو تین مرتبہ پولیس نے ناکام بنادیا اور پولیس کا کہنا تھا کہ دہلی کے مرکزی حکام سے انہیں اس کی اجازت نہیں ہے ۔ کسان لیڈر سرون سنگھ پندھیر نے پنجاب کے عوام سے اپیل کی کہ وہ 18 ڈسمبر کو ریل روکو احتجاج میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ 18 ڈسمبر کو ریل روکو احتجاج میں حصہ لیں۔ ہم پنجاب کے 13 ہزار گاووں کے عوام سے جو ریلوے پٹریوں کے قریب رہتے ہیں اپیل کرتے ہیں کہ وہ قریبی ریلوے کراسنگ پر جمع ہوجائیں اور 12 بجے دو پہر تا 3 بجے دن ٹرینوں کو روک دیں۔ واضح رہے کہ 101کسانوں کے ایک گروپ نے 6 ڈسمبر 8 ڈسمبر اور پھر 14 ڈسمبر کو دہلی میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن ہریانہ کے سکیوریٹی اہلکاروں نے اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ پولیس نے دہلی میں داخَہ کی کوشش کرنے والے کسانوں پر آنسو گیس کے شیلس برسائے اور جملہ 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مسٹر پندھیر نے راکیش ٹکیت کی قیادت والے سمیکت کسان مورچہ کو بھی مکتوب روانہ کرتے ہوئے خواہش کی ہے کہ وہ پنجاب ۔ ہریانہ سرحدی پوائنٹس پر احتجاج کرنے والے کسانوں سے آ ملیں۔ سمیکت کسان مورچہ نے تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کی قیادت کی تھی ۔ مسٹر پنڈھیر نے کہا کہ ہم نے اپنے ان بھائیوں کی جانب بھی ہاتھ بڑھایا ہے جو دہلی آندولن ( دہلی چلو مارچ ) میں شامل نہیں ہو پائے تھے ۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ کسان یونینوں میں جو کچھ بھی اختلافات ہیں انہیں کسانوں اور مزدوروں کی بہتری کیلئے فراموش کردیا جائے ۔ ہم نے اپنے بھائیوں کو ایک مکتوب بھی روانہ کیا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ سمیکت کسان مورچہ سے مثبت رد عمل حاصل ہوگا ۔ دہلی چلو مارچ کیلئے سمیکت کسان مورچہ حصہ نہیں تھا اور اپنے مکتوب میں مسٹر پندھیر نے کہا کہ جاریہ احتجاج سے قبل کسان یونینوں میں اتحاد کی کوششیں ناکام رہی ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ واضح رہے کہ 2020 میں پنجاب ‘ ہریانہ اور مغربی اترپردیش کے کسانوں نے تقریبا ایک سال تک احتجاج کیا تھا اور مرکزی حکومت کو تین متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے پر مجبور کردیا تھا ۔پنجاب و یو پی اسمبلی انتخابات سے قبل ان متنازعہ قوانین سے دستبرداری اختیار کرلی گئی تھی ۔