احتجاج اور شور و غل کے درمیان اسمبلی میں تصرف بل منظور

   

حیدرآباد۔ 31 جولائی (سیاست نیوز) اسمبلی میں احتجاج اور شور و غل کے درمیان تصرف بل کی منظوری کے بعد اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار نے ایوان کی کارروائی جمعرات کو صبح 10 بجے تک ملتوی کردی۔ آج صبح 10 بجے اسمبلی میں بی آر ایس کے رکن اسمبلی کے ٹی آر نے تصرف بل پر مباحث کا آغاز کیا اور سابقہ حکومت کے اچھے کاموں کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ کے ٹی آر کی تقریر کے دوران حکمراں جماعت کے ارکان نے اعتراض کیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی آر ایس رکن سبیتا اندرا ریڈی کے خلاف ریمارکس کئے جس پر بی آر ایس ارکان نے اسپیکر کے پوڈیم کے قریب پہنچ کر احتجاج کیا۔ ریمارکس سے دستبرداری یا سبیتا اندرا ریڈی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا۔ ’’تانا شاہی نہیں چلے گی‘‘کے نعرے لگائے۔ اسپیکر نے ایوان کو کنٹرول کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہونے پر 10 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔ 3:30 بجے ایوان کی کارروائی کا پھر آغاز ہوا۔ بی آر ایس ارکان نے احتجاج جاری رکھا جس کے بعد تین بی آر ایس خاتون ارکان سبیتا اندرا ریڈی، سنیتا لکشما ریڈی اور کوالکشمی اسپیکر کے پوڈیم کے قریب پہنچ کر احتجاج کیا اور سبیتا اندرا ریڈی کو بات کرنے کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر نے ایوان کا دوبارہ آغاز ہونے سے قبل ہی مرد اور خواتین مارشلس کو طلب کرلیا تھا۔ خاتون ارکان اسمبلی نے بعد ازاں بطور احتجاج ایوان میں زمین پر بیٹھ کر احتجاج کیا، دوسری طرف کے ٹی آر کے بشمول دوسرے بی آر ایس ارکان نے بھی اسپیکر کے پوڈیم کے پاس پہنچ کر احتجاج شروع کردیا۔ مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کارول ہے جب کسی رکن کا نام لیا جاتا ہے تو اس کو وضاحت کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے۔ چیف منسٹر نے سبیتا اندرا ریڈی کا نام لیا ہے۔ انہیں وضاحت کا موقع فراہم کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی جاری رکھی جائے۔ تصرف بل پر اسپیکر نے بی جے پی، مجلس ارکان کی مباحث کے بعد سبیتا اندرا ریڈی کو اپنی بات رکھنے کا موقع فراہم کرنے کا تیقن دیا، تاہم بی آر ایس ارکان احتجاج کرتے رہے اور اپنی نشستوں پر لوٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئے جس پر اسپیکر نے احتجاج اور شور و غل کے دوران بی جے پی کے فلور لیڈر مہیشوریڈی کو بات کرنے کا موقع فراہم کیا، مگر انہوں نے ہاوز کو آرڈر میں رکھنے کی اسپیکر سے اپیل کی جس کے بعد کانگریس کے رکن جی ویویک کو بات کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ وہ بات کررہے تھے بی آر ایس کے احتجاج کے دوران اسپیکر اسمبلی نے وزیر فینانس و ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کو تصرف بل پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے تصرف بل پیش کردیا جس کو منظوری دے دی گئی۔ 2