احتجاج کو کچلنا ہی واحد ایجنڈہ کیوں؟

   

غم کے سینے میں خوشی کی آگ بھرنے دو ہمیں
خوں بھرے پرچم کے پیچھے رقص کرنے دو ہمیں
مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ ایسا لگتا ہے کہ اب صرف ایک پوائنٹ پر کام کر رہی ہے اور وہ پوائنٹ یہی ہے کہ کسی طرح سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کو کچلا جائے ۔ چاہے دہلی ہو چاہے ملک کی کوئی اور ایسی ریاست ہو جہاں بی جے پی کا اقتدار ہو وہاں الیکشن کمیشن اور خاص طور پر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کو کچلنا ہی حکومت کا واحد کام رہ گیا ہے ۔ دہلی میں جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا گیا تو سارے شہر دہلی کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ۔ دہلی کے دوسرے مقامات پر احتجاج منظم کیا گیا تو وہاں پولیس کی بھاری فورس متعین کرتے ہوئے طاقت کا استعمال کیا گیا ۔ کنا پیلس میں احتجاج کا منصوبہ بنایا تو مقامی تاجروں کے ذریعہ اس کو روکنے کیلئے عدالت میں درخواست دائر کروائی گئی ۔ انڈیا گیٹ پر احتجاج کی کوشش کی گئی تو اسے بھی ناکام بنانے میں کوئی کسر باقی نہیںر کھی گئی ۔ غرض یہ کہ کہیں بھی احتجاج کو برداشت کرنے حکومت تیار نظر نہیں آتی جبکہ پرامن احتجاج کا حق ہمارے دستور میں دیا گیا ہے اور ہر شہری قانون اور دستور کے دائرہ میں رہتے ہوئے احتجاج کرسکتا ہے اور اپنی ناراضگی ظاہر کرسکتا ہے ۔ مرکزی حکومت اس طرح کے احتجاج سے خوفزدہ ہوگئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت بہرصورت احتجاج کو کچلنے کے منصوبہ پر ہی عمل پیرا ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے چند نوجوانوں نے جنتر منتر پر ترنگا لہرایا اور کچھ نعرے لگائے تو انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔ اب سی جے پی کی جانب سے 16 اکٹوبر کو ترنگا احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے تو حکومت نے اس کے خلاف بھی پابندیاں اور تحدیدات عائد کردی ہیں۔ دہلی ہائیکورٹ نے حکومت کے اس اقدام پر ناراضگی دکھائی ہے اور اس احتجاج کو روکنے سے انکار کردیا ہے ۔ جو پابندیاں اور تحدیدات عائد کی جا رہی ہیں اس کی وجوہات پیش کرنے کیلئے ہدایت کے ساتھ عدالت کی جانب سے نوٹس بھی جاری کی گئی ہے ۔ حکومت ہر ہتھکنڈہ اور حربہ استعمال کر رہی ہے تاکہ احتجاج کو روکا اور دبایا جاسکے ۔
جس مسئلہ پر احتجاج کیا جا رہا ہے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر انتخابی دھاندلیوں کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ ساتھی کمشنران نے اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی ۔ اس کا ایک میڈیا رپورٹ میں پتہ چلا ہے ۔ کئی گوشوں سے مسلسل اس پر سوال کئے جا رہے ہیں۔ سارے ملک میں 13 کروڑ سے زائد ووٹرس کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کردیا گیا ہے ۔ یہ اندیشے برقرار ہیں کہ مزید لاکھوں افراد کو ووٹ کے حق سے محروم کیا جاسکتا ہے ۔ یہ مسئلہ کسی ایک پارٹی یا گروپ کا نہیں ہے بلکہ اس عظیم ملک کی جمہوریت کا ہے کیونکہ جمہوریت میں عوام کا ووٹ ہی سب سے اہم اور طاقتور ہتھیار ہے ۔ ووٹوں کو حذف کرنے کا جو جواز پیش کیا جا رہا ہے اور جو وجوہات بتائی جا رہی ہیں وہ بھی ناقابل فہم ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے بے شمار افراد ہیں جن کو مردہ قرار دے کر نام حذف کردیا گیا ہے جبکہ وہ زندہ سلامت ہیں اور میڈیا کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ آج کے اس انتہائی ترقی یافتہ دور میں زندوں کو مردہ قرار دینا ملک کی جمہوریت کے ساتھ انتہائی بھونڈا مذاق ہی نہیں بلکہ جمہوریت کو کھوکھلا کرنے کی سازش ہے ۔ ایک شخص بذات خود سامنے موجود ہے لیکن اس کو الیکشن کمیشن زندہ قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو ساری دنیا میں ہندوستانی جمہوریت کا مذاق بنانے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ساری دنیا میں ہماری جمہوریت مثالی اور شاندار رہی ہے ۔
حکومت ان اندیشوں کا شکار ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرجائے تو حکومت کی بنیادیں بھی ہل جائیں گی ۔وہ کالے کرتوت سامنے آسکتے ہیں جن کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا جا رہا ہے اور ملک بھر میں اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے ۔ حکومت کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر آواز کو ہر احتجاج کو محض طاقت اور پابندیوں کے ذریعہ دبایا نہیں جاسکتا ۔ عوام کے جمہوری حق کیلئے جو آواز بلند ہو رہی ہے وہ ضرور بلند ہوگی اور احتجاج کو دبانے کچلنے کی کوشش ناکام رہے گی ۔