اراضی حصول کے غیر قانونی طریقہ کار پرہائی کورٹ کی برہمی

   

مالک اراضی کی سماعت کے بغیر انہدامی کارروائی
حیدرآباد۔/25 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کی جسٹس مادھوی دیوی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن پر برہمی کا اظہار کیا اور ایک شہری کو وضاحت کا موقع دیئے بغیر انہدامی کارروائی کو بدبختانہ قرار دیا۔ جج نے نالہ کی توسیع کیلئے ایک شہری کی خانگی اراضی حاصل کرنے کے طریقہ کار پر سخت اعتراض کیا۔ عدالت نے اس بات پر شبہات ظاہر کئے کہ بلدی عہدیدار اراضی حصول کے قواعد سے واقف ہیں یا نہیں۔ جسٹس مادھوی دیوی نے ایرہ گڈا میٹرو اسٹیشن کے قریب 18 فروری کو جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی جانب سے اراضی کے کمپاونڈ وال کو منہدم کرنے کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت کی۔ اراضی کے حصول اور معاوضہ کی ادائیگی سے متعلق قانون 2013 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی حکام نے نالہ کی توسیع کے نام پر کمپاونڈ وال کو منہدم کرتے ہوئے اراضی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ درخواست گذار نے کہا کہ بلدیہ کی جانب سے قواعد کی تکمیل کرتے ہوئے 1834 مربع گز اراضی کے حصول میں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن حکام نے 18 فروری کو غیر قانونی طریقہ سے کمپاونڈ وال منہدم کرتے ہوئے توسیعی کاموں کا آغاز کردیا۔ جی ایچ ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تحصیلدار نے اسے سرکاری اراضی قرار دیتے ہوئے رپورٹ پیش کی تھی۔ عدالت نے جب اس بارے میں احکامات طلب کئے تو کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار نے بتایا کہ درخواست گذار کی اراضی حاصل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ عدالت نے کہا کہ تحریری حلفنامہ اور زبانی وضاحت میں کافی تضاد ہے۔ جسٹس مادھوی دیوی نے باونڈری وال کی دوبارہ تعمیر کیلئے بلدی حکام کو ہدایت دی جس پر کمشنر بلدیہ نے دوبارہ تعمیر سے اتفاق کیا۔ر