حیدرآباد۔6جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوچکی ہیں اور کوئی اسکیم نہیں چلائی جا رہی ہے جس کے سبب اکیڈیمی کا وجود بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ریاستی اردو اکیڈیمی نے 6 ماہ قبل ریاست بھر سے مختلف زمروں میں ایوارڈس کے لئے درخواستیں طلب کی تھیں لیکن گذشتہ تین برسوں سے زیر التواء ان ایوارڈس کے لئے درخواستوں کی وصولی کے باوجود بھی ایوارڈ یافتگان کا انتخاب مکمل نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اکیڈیمی کے پاس کوئی بجٹ موجود نہیں ہے۔تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی نے سال 2019میں ایوارڈ تقریب منعقد کی تھی اور اس کے بعد سے اب تک ایوارڈ تقریب منعقد نہیں کی گئی اور عہدیداروں سے دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ اکیڈیمی کے پاس بجٹ نہ ہونے کے سبب ایوارڈ تقریب ہی نہیں بلکہ کوئی اور اسکیم بھی نہیں چلائی جا رہی ہے ۔تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیئے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ کہا جا تا رہا ہے کہ حکومت زبان کے فروغ و اشاعت کے لئے سنجیدہ ہے لیکن ریاستی اردو اکیڈیمی کو جاری کئے جانے والے بجٹ کی حالت کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ مالی سال 2022-23 کے دوران اردو اکیڈیمی کو پہلے سہ ماہی کے اختتام کے باوجود ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا جبکہ حکومت نے جاریہ مالی سال کے لئے ریاستی اردو اکیڈیمی کے بجٹ کو 6کروڑ82 لاکھ تک محدود رکھا ہے اور اس میں اب تک کوئی رقم جاری نہ کئے جانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود اور اردو اکیڈیمی سے ریاستی محکمہ فینانس کو کس قدر دلچسپی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کو اردو اکیڈیمی کی اسکیمات کو جاری رکھنے کے سلسلہ میں بجٹ کی ضرورت سے متعدد مرتبہ واقف کروایا جاچکا ہے لیکن مناسب پیروی نہ ہونے کے سبب اب تک کوئی رقم جاری نہیں کی جاسکی ہے۔م