ارشد شریف کی ہلاکت: تحقیقات کرنے کینیا پولیس کا اعلان

   


مہلوک کا شمار پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریبی صحافیوں میں ہوتا تھا

نیروبی ؍لندن: پاکستان کے سینئر صحافی ارشد شریف کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ فیملی کے ذرائع اور کینیا کی پولیس نے واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ارشد شریف کی موت کے حوالے سے ابتداً خبر آئی تھی کہ نیروبی میں ایک کار حادثہ میں ان کی موت واقع ہوئی ہے۔ تاہم ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ ارشد شریف کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔جویریہ صدیق خود بھی صحافی ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ وہ ایک دوست، شوہر اور اپنے پسندیدہ صحافی سے محروم ہو گئی ہیں۔کینیا کے مقامی اخبار دی اسٹار نے رپورٹ کیا ہے کہ صحافی ارشد شریف اتوار کی شب نیروبی مگادی ہائی وے پر پولیس کی غلطی سے کی گئی فائرنگ کا نشانہ بنے، جس سے ان کی موت واقع ہوئی ہے۔اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے سیکیورٹی چیکنگ کے لیے سڑک بلاک کی تھی کہ اس دوران ارشد شریف کے ڈرائیور نے چیک پوائنٹ کی خلاف ورزی کی جس پر پولیس نے فائرنگ کی اور ایک گولی ارشد شریف کے سر میں جا لگی۔ اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے اس واقعہ میں ڈرائیور بھی زخمی ہوا ہے۔ اخبار کے مطابق سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ غلطی سے پیش آیا، جس میں ایک صحافی کی موت واقع ہوئی ہے۔ واقعہ سے متعلق مزید معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نیروبی کے علاقہ پنگانی میں کار چھین کر بچے کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد سڑک پر چیکنگ ہو رہی تھی کہ کچھ دیر بعد وہاں ارشد شریف کی گاڑی پہنچی، جسے اہلکاروں نے رکنے کا اشارہ کیا اور شناخت پوچھی گئی۔ تاہم ڈرائیور نے مبینہ طور پر گاڑی بھگا دی جس کا تعاقب کرتے ہوئے پولیس نے فائرنگ کی۔ جس کی وجہ سے ارشد شریف ہلاک اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوا۔رپورٹس کے مطابق پولیس ہیڈ کوارٹر کا کہنا ہے کہ انڈی پینڈنٹ پولیسنگ حکام واقعہ کی تحقیقات کریں گے۔کینیا سے تعلق رکھنے والے صحافی برائن ابویا نے ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ کینیا میں پولیس سے متعلق تحقیقاتی اتھارٹی نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی قتل کے تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ارشد شریف کی میت کو اس مقام سے 70 کلومیٹر دور مردہ خانے میں منتقل کیا گیا جہاں پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔برائن ابویا کا مزید کہنا تھا کہ ارشد شریف کے جسم پر دو گولیوں کے زخموں کے نشان ہیں جبکہ پاکستان کے سفارتخانے کے اہل کار بھی مردہ خانہ پہنچ چکے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ارشد شریف کی ہلاکت سے متعلق حقائق جاننے کے لیے کینیا کی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں نیروبی میں موجود پاکستان کا سفارت خانہ مکمل تعاون کر رہا ہے۔
ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اپیل کی ہے کہ ان کی پرائیویسی کا خیال رکھا جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بریکنگ نیوز کے نام پر ان کے خاندان کی تصاویر، ذاتی نوعیت کی تفصیل اور ارشد شریف کی اسپتال سے آخری تصاویر شیئر نہ کی جائیں۔
صحافی ارشد شریف کا شمار پاکستان کے ان صحافیوں میں ہوتا تھا جنہیں سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ ارشد شریف سوشل میڈیا پر اور اپنے پروگرام میں عمران خان کے بیرونی مداخلت کے بیانیے کی سرگرمی سے حمایت کرتے رہے تھے جس پر انہیں مبینہ طور پر ہراساں بھی کیا گیا تھا۔حال ہی میں ارشد شریف کے خلاف کراچی کے ایک تھانے میں غداری کا مقدمہ درج ہوا تھا جس کے بعد وہ دبئی منتقل ہوگئے تھے۔ ارشد شریف کے کینیا میں مبینہ قتل پر سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔