ارشد کو منصوبہ بندطریقہ سے قتل کیا گیا: انسانی حقوق کمیشن کینیا

   

نیروبی : کینیا کے انسانی حقوق کمیشن نے پاکستان کے سینیر صحافی ارشد شریف کی نیروبی کے قریب پر اسرار حالات میں موت کو قتل قرار دے دیا۔کینیا ہیومن رائٹس کمیشن کے مارٹن ماوین جینا نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کو واضح طور پر منصوبہ بندی کر کے قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے اس کارروائی میں اندر کے لوگ ملوث تھے اور ارشد شریف کی نگرانی کی جارہی تھی۔مارٹن ماوین جینا کا کہنا تھا کہ پولیس کا یہ موقف کہ ارشد شریف کا قتل غلط شناخت کے سبب ہوا، کمزور ہے؛ ارشد شریف جس گاڑی میں سفر کر رہے تھے وہ اہم افراد ہی استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات سے یہ بات بھی واضح ہے کہ ارشد شریف پر گولی چلانے والے تربیت یافتہ افراد تھے۔مارٹن ماوین جینا نے واضح کیا کہ دنیا کے تمام ممالک کی کرپٹ پولیس میں کینیا کا تیسرا نمبر ہے اور ان کی تنظیم کینیا پولیس کی 2 دھائیوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دے چکے ہیں۔مارٹن ماوین جینا کا کہنا تھا کہ کینیا پولیس غیر قانونی ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بدنام ہے، کمیشن نے 5 برسوں میں 200 گمشدگیوں اور غیر قانونی قتل کے کیس درج کئے ہیں۔