استنبول : استنبول کے میئر کی سزا اور ان پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر جمعرات کو ہزاروں ترک باشندے احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے۔ امام اولو ترکی کے آئندہ انتخابات میں صدرایردوان کیلئے بڑا چیلنج ہیں۔چہارشنبہ 14 دسمبر کو تر کی کی ایک عدالت نے مقبول سیاستدان اور ایردوان کے ایک مضبوط حریف امام اولو کو دو سال اور سات ماہ قید کی سزا سنا دی۔ تاہم قید کی سزا اوران پر لگائی گئی سیاسی پابندی کی اپیل کورٹ سے تصدیق ہونا ضروری ہے۔ امام اولو کو سنائی گئی سزاؤں کو اندرون و بیرون ملک جمہوری اقدار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔16 ملین کی آبادی والے شہر استنبول میں جمعرات کو ہونے والے مظاہرے میں ہزاروں افراد حب الوطنی سے لبریز موسیقی کی گونج میں ترک پرچم لہراتے اور جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کا ایک بڑا پوٹریٹ لیکر بلدیہ کے مرکزی دفتر پہنچے۔ بعد میں اس پوٹریٹ کو مظاہرین نے اس عمارت پر لٹکا دیا۔ مظاہروں میں شریک افراد حقوق، قانون اور انصاف۔ اے کے پی کے حساب کا دن بھی جلد آئے گا‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔‘‘ استنبول کے اس مظاہرے میں شریک افراد کے ان نعروں کا اشارہ ترک صدر رجب طیب اردغان کی حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ (اے کے پی )کی طرف تھا۔