ہزاروں لبنانی شہری اپنے گھروں کو جانے کے خواہاں چاہے وہ ملبہ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو
تل ابیب: لبنان اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کے جلد اعلان سے متعلق خبریں گردش میں آنے کے بعد سے بے گھر لبنانیوں کے بیچ خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ گذشتہ گھنٹوں کے دوران میں ایسے ویڈیو کلپ سامنے آئے ہیں جن میں صیدا شہر کے ایک اسکول میں قیام پذیر بے گھر افراد جنگ بندی قریب ہونے کی خبر سننے کے بعد خوشی سے سرشار گانے اور رقص میں نظر آئے۔اس معاہدہ کا مطلب ہزاروں لبنانیوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہے خواہ وہ ملبہ کے ڈھیر پر ہی ہو۔جنگ بندی سے متعلق امریکی تجویز پر آمادگی اور ووٹنگ کیلئے اسرائیلی حکومت کا اجلاس آج منگل کی شام ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی بعض مخالف آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں اور سیکورٹی کابینہ کے اجلاس کے مقام کے باہر احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ مخالفین جنگ بندی کے معاہدے کو “شکست کا سمجھوتا” قرار دے رہے ہیں۔ایک اسرائیلی ذمہ دار کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو آج شام تل ابیب میں اعلی سطح کا ایک اجلاس منعقد کریں گے جس میں حزب اللہ کے ساتھ 60 روز کیلئے فائر بندی کی منظوری دی جائے گی۔ یہ بات ٹائمز آف اسرائیل نے بتائی۔ادھر وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جون کیربی نے فائر بندی کا اعلان قریب ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انھوں نے ساتھ خبردار کیا کہ “اس وقت تک کسی بھی چیز تک پہنچنے کا اعلان ہر گز نہیں کیا جائے گا جب تک تمام چیزیں مکمل نہ ہو جائیں”۔دوسری جانب لبنانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر الیاس ابو صعب نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی پر عمل شروع ہونے کی راہ میں ’’کوئی سنجیدہ رکاوٹ‘‘ باقی نہیں رہی۔ جہاں تک فائر بندی کی نگرانی کے نقطے پر اختلاف کا تعلق ہے تو گذشتہ چوبیس گھنٹے میں یہ مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے۔ نگرانی کیلئے پانچ ممالک پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی گئی ہے جس میں فرانس شامل ہے۔ کمیٹی کی سربراہی امریکہ کے پاس ہو گی۔یہ واضح پیشرفت کی ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان کوششوں کی قیادت وائیٹ ہاؤس اور امریکی نمائندے آموس ہوکشٹائن نے کی۔ ہوکشٹائن نے گذشتہ ہفتے لبنان اور اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا۔