تل ابیب: اسرائیلی کنیسٹ نے سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات کو محدود کرنے والے بل کی ابتدائی منظوری دے دی۔ یہ بل مجوزہ عدالتی ترامیم کے حصے کے طور پر پر منظور کیا گیا۔ اس بل کو وزیر اعظم نتن یاہو نے ملک کو ایک بڑے سیاسی بحران میں ڈالنے کے بعد دوبارہ آگے بڑھایا ہے۔پیر کے روز مسودہ قانون پہلی خواندگی میں منظور کرلیا گیا۔ اس بل کا مقصد عدلیہ کی جانب سے معقولیت کی حد تک حکومتی فیصلوں پر حکمرانی کے امکان کو ختم کرنا ہے۔ دوسری طرف بل کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد پارلیمنٹ کے حق میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرکے اختیارات میں توازن پیدا کرنا ہے۔عدلیہ کے قوانین میں ترمیم کا منصوبہ نتن یاہو کے قومی اور مذہبی جماعتوں کے حکمران اتحاد نے پیش کیا جس کے خلاف اسرائیل میں بڑے مظاہروں کی تحریک شروع ہوگئی۔ مغرب میں اسرائیل کے اتحادیوں کو بھی ملک میں جمہوریت کی سالمیت کے بارے میں تشویش لاحق ہوگئی ۔