واشنگٹن : صدر جو بائیڈن کا خیال ہے کہ پیجر اور واکی ٹاکی بم دھماکوں کے ایک سلسلہ کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کیباوجود اب بھی کوئی سفارتی حل ہو سکتا ہے، امریکی صدرکی ترجمان نے جمعرات کو کہا۔ لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اس وقت شدید اضافہ ہوگیا جب لبنان کے مختلف شہروں میں پیجر ڈیوائسز میں ایک ساتھ دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور بیروت میں موجود ایرانی سفیر سمیت لگ بھگ تین ہزار افراد زخمی ہوگئے تھے۔ صدر کا خیال ہے کہ یہ قابل حصول ہے کہ پریس سکریٹری جین پیئر نے ایک بریفنگ میں بتایا۔ صدر اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمیں پر امید رہنا ہوگا۔ سفارتی حل بہترین طریقہ ہے۔ حزب اللہ نے پیجرز کے منگل کو ہونے والے ہلاکت خیز دھماکوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اسرائیل کو ان دھماکوں کی سزا دی جائے گی۔ رائٹرز کے مطابق لبنان کے سیکوریٹی ذرائع سمیت دیگر ذریعہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے حزب اللہ کیلئے لبنان درآمد ہونے والے پانچ ہزار پیجرز میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔ خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اسرائیل نے منگل کو آپریشن مکمل ہونے کے بعد امریکہ کو اس پر بریفنگ دی۔