اسرائیل کے خلاف ہمارا ردعمل ’غیر متوقع‘ اور ’منہ توڑ‘ ہوگا: ایران

   

تہران : اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے کہا کہ حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف ہمارا ردعمل غیر متوقع اور منہ توڑ ہوگا۔ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے” کیا ایران نے جان بوجھ کر غزہ میں جنگ بندی مذاکرات کا نتیجہ واضح ہونے تک اسرائیل کو جواب دینے میں تاخیر کی؟ سوال کا جواب دیا۔نمائندہ دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ردعمل کے دو واضح نتائج ہونے چاہئیں۔ اسے اولین طور پر جارح کو ‘دہشت گردی’ اور ‘ایران کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی’ کی سزا دینی چاہیے، پھر ایران کی مزاحمتی طاقت کو مضبوط کرنا چاہیے اورمستقبل میں کسی بھی حملے کا سد باب کرنے کے لیے اسے اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔بیان میں کہا گیا کہ ایران کے ردعمل میں ممکنہ جنگ بندی پر منفی اثر ڈالنے سے گریز کرنا شامل ہے اور ایران کا ردعمل شاید اس وقت اور حالات میں ہو گا جس کا اسرائیل کو کم سے کم امکان ملے گا۔ ہو سکتا ہے یہ وہ وقت ہو جب وہ زمینی حملے کو نظر انداز کر کے اپنی نظریں صرف آسمان اور ریڈار اسکرین پر گاڑے رکھے ہو۔انہوں نے کہاکہ ہم اس بات کا تعین کریں گے کہ ہنیہ کا بدلہ کب اور کیسے لیا جائے گا، اور یہ یقینی طور پر ہوگا۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب کے فوجی ترجمان علی محمد نینی نے کہا، “وقت ہمارے حق میں ہے، دشمن حملہ کرنے کے وقت کا انتظار کرے۔