اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کا وعدہ ‘ صرف کان خوش کئے گئے

   

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

حیدرآباد 12 ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے مسلمانوں کے کان خوش کرنے کا معاملہ اب کوئی مذاق نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے‘۔ حکومت کی جانب سے ریاست میں مسلمانوں کی ترقی اور فلاحی اقدامات کے اعلانات حقیقت میں محض کانوں کو خوش کرنے والے ثابت ہونے لگے ہیں کیونکہ حکومت اپنے کسی منصوبہ کو قابل عمل بنانے کے موقف میں نظر نہیں آرہی ہے اور نہ ہی مسلمانوں سے کئے گئے وعدو ںکو پوراکرنے میں سنجیدگی نظر آرہی ہے کیونکہ سال 2017 میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کوکاپیٹ میں اسلامک کلچرل سنٹر کے قیام کااعلان کیا تھا اور سال 2020-21 بجٹ میں اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کیلئے 40 کروڑ روپئے بجٹ کو منظوری دی گئی تھی لیکن اب جبکہ سال 2022 ختم ہونے کو ہے اسلامک کلچرل سنٹر کا سنگ بنیاد تک نہیں رکھا گیا اس کے برعکس حکومت سے اعلان کردہ قبائیلیوں کیلئے سیوالال بنجارہ بھون اور آدی واسی بھون کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد ان کا افتتاح بھی کر دیا گیا اور دونوں بھون بنجارہ ہلز میں انتہائی قیمتی اراضی پر کروڑہا روپئے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے اور مسلمانوں کیلئے اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد تقریب تک منعقد نہیں ہوپائی ہے۔ آج حکومت سے اپل میں کرسچن بھون کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد تقریب منعقد کی گئی لیکن اب تک محکمہ اقلیتی بہبود میں مسلمانوں کیلئے مجوزہ اسلامک کلچرل سنٹر میں کوئی پیشرفت کے آـثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ حکومت نے مسلمانوں سے وعدوں پر عمل کی بجائے انہیں نظرانداز کرنے کا جو رویہ اختیار کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے مسائل یا ان سے وعدوں کوفراموش کرچکی ہے اور تلنگانہ میں اکثریتی آبادی کو ترجیح دے کر ان سے وعدوں کو پورا کرنے میں مصروف ہے ۔ کرسچن طبقہ جو کہ محکمہ اقلیتی بہبود کا ہی حصہ ہے اور کرسچن بھون کیلئے کوئی اعلان نہیںکیا گیا اس کے باوجود اپل میں 2ایکڑ اراضی جس کی مالیت 70کروڑ ہے تفویض کرکے کرسچن بھون کیلئے سنگ بنیاد رکھا جاچکا ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے 2017 میں مسلم نوجوانوں کیلئے خصوصی آئی ٹی کاریڈار اور صنعتی اداروں کے قیام کے علاوہ تجارتی امور کو ترقی دینے اراضیات کی فراہمی کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں کی گئی ۔م