اسمبلی الیکشن کیلئے بی آر ایس اور کانگریس کی سرگرمیوں میں شدت

,

   

ماہرین سے سروے رپورٹ کا حصول، بی آر ایس کو 30 حلقوں پرکمزور مظاہرہ کا اندیشہ، کانگریس 70 نشستوں کیلئے پُرامید
حیدرآباد۔/11 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اہم سیاسی پارٹیوں نے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کو تیز کرتے ہوئے ملک کے سرکردہ اداروں کو سروے کی ذمہ داری دی ہے۔ برسر اقتدار بی آر ایس نے انتخابی حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور کی خدمات حاصل کی تھی لیکن بہار میں علحدہ سیاسی پارٹی کے قیام کے بعد پرشانت کشور نے بی آر ایس کیلئے کام بند کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق کے سی آر نے نئی دہلی کے دو اداروں کو تلنگانہ میں سروے کی ذمہ داری ہے تاکہ انتخابات سے قبل امیدواروں کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ سروے رپورٹ میں تقریباً 40 اسمبلی حلقہ جات میں کمزور مظاہرے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کے سی آر نے ارکان اسمبلی کی کارکردگی کی بنیاد پر ایک علحدہ سروے کا اہتمام کیا لیکن اس رپورٹ میں بھی 30 سے زائد اسمبلی حلقوں میں بی آر ایس ارکان اسمبلی کے کمزور موقف کا انکشاف کیا گیا۔ کے سی آر نے اپنے بااعتماد رفقاء کے ساتھ سروے رپورٹس کو شیئر کرتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ چیف منسٹر نے ارکان اسمبلی کی ناقص کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا اور ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ کمزور اسمبلی حلقہ جات پر توجہ مرکوز کریں اور ارکان اسمبلی کو تین ماہ کی مہلت دی جائے تاکہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بناسکیں۔ چیف منسٹر نے ضلع واری سطح پر پارٹی موقف کا جائزہ لینے کی کے ٹی آر کو ہدایت دی۔ بی آر ایس کے پہلے یوم تاسیس کے سلسلہ میں جاریہ ماہ اسمبلی حلقہ جات کی سطح پر مختلف پروگراموں کا آغاز کیا جارہا ہے جس کا مقصد ارکان اسمبلی کو بہتر کارکردگی کیلئے تیار کرنا ہے۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی نے مشہور حکمت عملی ساز سنیل سے موجودہ صورتحال میں پارٹی کے موقف پر رپورٹ طلب کی ہے۔ سنیل اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے ہائی کمان کو پیش کردہ رپورٹ میں 70 نشستوں پر کانگریس کے بہتر مظاہرہ کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے بعد کانگریس ہائی کمان نے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی سرگرمیوں میں شدت پیدا کریں اور تمام سینئر قائدین کو ساتھ لیکر مہم کی تیاری کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ سنیل کی رپورٹ میں ان اسمبلی حلقہ جات کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ سروے رپورٹ میں ہائی کمان کو مشورہ دیا گیا کہ تلنگانہ میں پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان الیکشن سے کم از کم چار ماہ قبل کیا جائے تاکہ امیدواروں کو مہم اور عوامی رابطہ میں مدد ملے۔ عین وقت پر امیدواروں کے اعلان کے نتیجہ میں ایک طرف ناراض سرگرمیوں سے نمٹنا پڑتا ہے تو دوسری طرف عوامی رابطہ کیلئے وقت ناکافی رہیگا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی نے 6 ماہ قبل امیدواروں کے اعلان کی ہائی کمان سے سفارش کی ہے۔ ہر اسمبلی حلقہ کیلئے موزوں امیدوار کے بارے میں علحدہ رپورٹ طلب کی گئی ہے اور 119 کے منجملہ 100 اسمبلی حلقہ جات میں کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ دو ماہ میں حلقہ واری سطح پر مضبوط امیدواروں کے نام سروے رپورٹ میں پیش کئے جائیں گے۔ر