اس گنہگار کو جو بخش دیا
پھر جہنم کو کیا دیا تو نے
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات سارے ملک میں توجہ کا مرکز رہے ہیں اور ان کی انتہاء درجہ کی اہمیت سے بھی کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ بی جے پی اور ترنمول کانگریس نے انتہائی شدت کے ساتھ پوری طاقت جھونکتے ہوئے انتخابات میں مقابلہ کیا تھا اور ان کی سیاسی قسمت کا فیصلہ الیکٹرانگ ووٹنگ مشینوں میں محفوظ ہوگیا ہے ۔ تاہم یہ شبہات تقویت پانے لگے ہیں کہ خود الیکٹرانک ووٹنگ مشین محفوظ نہیں رہ گئے ہیں اور ان میں چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے اور ان میں ووٹوں کی الٹ پھیر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ چہارشنبہ کو مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ جمعرات کی شام اچانک ہی کولکتہ اور دوسرے مقامات پر اسٹرانگ رومس پر ہنگامہ شروع ہوگیا کیونکہ ترنمول کانگریس نے پتہ چلایا کہ اسٹرانگ رومس میں مبینہ طور پر بی جے پی کے کارکن الیکشن کمیشن کے عملہ کے ساتھ داخل ہوگئے ہیں۔ اس کا ایک ویڈیو بھی ترنمول کانگریس کی جانب سے سوشیل میڈیا پر پیش کیا گیا اور ترنمول کے قائدین کولکتہ کے نیتاجی انڈور اسٹیڈیم پہونچ گئے اور انہوں نے احتجاج شروع کردیا ۔ کچھ ہی دیر میں پتہ چلا کہ یہی کچھ صورتحال چیف منسٹر ممتابنرجی کے حلقہ انتخاب بھوانی پور میں بھی پیش آرہی ہے ۔ ممتابنرجی پہلے کولکتہ کے اسٹرانگ روم اور پھر بھوانی پور کے اسٹرانگ روم پہونچ گئیں اور انہوں نے ان مبینہ بے قاعدگیوں پر شدید احتجاج کیا ۔ ترنمول کے امیدواروں نے تو کولکتہ کے اسٹرانگ روم کے باہر سٹ ان احتجاج بھی شروع کردیا تھا ۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ اسٹرانگ روم میں جب ووٹنگ مشین محفوظ کردئے گئے ہیں تو پھر وہاں غیرمجاز افراد کو داخلہ کس کی اجازت سے دیا گیا اور جو لوگ اندر گئے تھے وہ کون تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے ۔ انتخابی عمل چاہے ایک وارڈ کو ہو یا اسمبلی حلقہ کا ہو یا پارلیمنٹ کا ہو انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اس میں کسی طرح کی بے قاعدگی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔ اگر اسٹرانگ رومس میں کوئی غیرمجاز شخص داخل ہونے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کی نگرانی کرنے والوں سے جواب طلب کیا جانا چاہئے اور اس داخلہ کے مقاصد کیا ہوسکتے ہیں ان کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہئے ۔
اس مسئلہ کی سنگینی اور اہمیت کو سمجھنے اور جو کچھ ہوا ہے اس کی تحقیقات کروانے کی بجائے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کی جانب سے یہ سوال کئے جا رہے ہیں کہ ترنمول قائدین کس طرح سے اسٹرانگ روم میں داخل ہوئے ۔ جو ویڈیو ترنمول نے جاری کیا ہے اور جس میں غیر مجاز افراد اسٹرانگ روم میں کچھ کھولتے ہوئے دکھائی دئے ہیں اس پر الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہئے کہ وہ کیوں ان اسٹرانگ رومس کو محفوظ رکھنے میں اور ووٹنگ مشینوں کی نگرانی میں ناکام رہا ہے ۔ غیر مجاز لوگ کس طرح سے اسٹرانگ روم میں داخل ہوئے تھے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ۔ اگر یہ لوگ مجاز تھے اور اسٹرانگ روم میںداخل ہوئے تھے تو پھر تمام جماعتوں اور ان کے امیدواروں کو کیوں نہیں اس کی پیشگی اطلاع دی گئی ۔ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور یہ ملک کے جمہوری عمل سے کھلواڑ کے مترادف ہے اور اس کی جانچ ہونی چاہئے اور اس کا جواب دیا جانا چاہئے ۔ ریاست کے عوام اپنے فیصلے کا اظہار کرچکے ہیں اور اس فیصلے میں الٹ پھیر کرنے اور الیکشن چوری کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ اس طرح کے واقعات سے جمہوری عمل میں عوام کے یقین اور بھروسہ کو ٹھیس پہونچنے کے اندیشے لاحق رہتے ہیں اور ایسے واقعات کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی اور انتخابی فائدہ کیلئے کسی کو بھی اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے ملک کے جمہوری عمل سے کھلواڑ کرنے اور اسے کھوکھلا کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ اس مسئلہ پر کوئی دو رائے بھی نہیں ہونی چاہئے ۔
مغربی بنگال میں جو کچھ بھی حالات پیش آرہے ہیں وہ نہ ریاست کیلئے اچھے ہیں اور نہ ہی انتخابی عمل کیلئے اچھے کہے جاسکتے ہیں۔ ایسے واقعات کے تدارک کیلئے سبھی کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ جو کوئی ایسے واقعات اور بدعنوانیوں کیلئے ذمہ دار قرار پائیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے اورا ن سے جواب طلب کیا جانا چاہئے ۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں جمہوری عمل کو داغدار کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ انتخابی جیت اور ہار جمہوری عمل کا حصہ ہے لیکن عوام کے فیصلے کو بدلنے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ناقابل برداشت ہیں اور ان کو روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جانے چاہئیں۔