اضلاع ہیڈکوارٹرس پر تعمیر کئے گئے آئی ٹی ہبس بے یارومددگار سنٹرس میں تبدیل

   

50 تا 90 کروڑ روپئے کے مصارف سے عمارتیں تعمیر، نوجوانوں میں مایوسی
حیدرآباد ۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے دورحکومت میں ریاست کے دوسرے تیسرے درجہ کے شہروں اور اضلاع سطح تک آئی ٹی سیکٹر کو توسیع دینے کے مقصد سے قائم کئے گئے آئی ٹی ہبس بے یارومددگار سنٹرس میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ ایک لاکھ مربع فیٹ تا ایک لاکھ 75 ہزار مربع فیٹ پر انہیں 50 تا 90 کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر کی گئی عمارتیں خالی نظر آرہی ہیں کیونکہ یہاں کوئی کمپنیاں نہیں آرہی ہیں۔ بی آر ایس حکومت نے آئی ٹی ٹاورس کی تعمیر میں کافی جوش و خروش دکھایا تھا لیکن اس کے بعد کوئی مناسب انتظامات نہیں کئے گئے۔ یہاں تک ریاست میں نئی قائم ہونے والی کانگریس حکومت نے بھی اس پر کوئی توجہ نہیں دی ہے جس کی وجہ سے بہت سی کمپنیاں جو ابتدائی طور پر کام کا آغاز کیا تھا وہ بھی مختلف وجوہات سے واپس جارہی ہیں۔ تلنگانہ اکیڈیمی آف سلک اینڈ نالج (ٹسکام) کی قیادت میں 2019ء سے ریاست کے مختلف شہروں میں آئی ٹی ہب کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن کمپنیوں سے مناسب انداز میں رابطہ نہ کرنے اور تال میل پیدا نہ کرنے کی وجہ سے بڑی کمپنیوں نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ۔ نلگنڈہ، محبوب نگر، سدی پیٹ، کریم نگر، عادل آباد، نظام آباد، سوریاپیٹ میں آئی ٹی ہبس بڑی دھوم سے قائم کئے گئے۔ اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ ان میں چھوٹی چھوٹی کمپنیاں قائم ہوئیں مگر نوجوانوں کو بڑی تنخواہیں دینے کے موقف میں نہیں تھی جس کی وجہ سے نوجوانوں نے اپنی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ہنمکنڈہ کے علاقہ میں قائم کئے گئے آئی ٹی ہب میں بڑی کمپنی ٹیک مہندرا نے اپنی برانچ قائم کی تاہم بعد میں اس کو بند کردیا گیا۔ ریاست بھر میں ابتداء میں چند کمپنیاں قائم ہوئی بعد میں بیشتر کمپنیاں واپس ہوگئی جس کی وجہ سے مقامی طور پر نوجوانوں کو آئی ٹی ملازمتیں فراہم کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ سرکاری اراضیات اور سرکاری فنڈز سے آئی ٹی ہبس تعمیر کئے گئے مگر اس کی ذمہ داری خانگی کمپنیوں کے حوالے کی گئی۔ ان کمپنیوں کی جانب سے من مانی کرایہ مختص کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان عمارتوں میں کمپنیاں قائم کرنے کیلئے کوئی آگے نہیں آرہے ہیں۔2