اسلامی اصول کے مطابق اسکول چلانے کے وعدہ پر عدم عمل آوری، بلاول بھٹو کا بھی اظہار افسوس
کابل : افغانستان میں لڑکیوں کی یونیورسٹی تعلیم موقوف کر دی گئی ہے۔طالبان عبوری حکومت کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم کے ترجمان حافظ ضیاء ہاشمی کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملک کی تمام سرکاری و نجی یونیورسٹیوں کو تعلیمِ نسواں کے بارے میں احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔احکامات کی رْو سے کابینہ کے فیصلے کے ساتھ یونیورسٹیوں میں تعلیمِ نسواں کو تا حکمِ ثانی موقوف کر دیا گیا ہے۔امریکہ وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے موضوع سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ طالبان کا یونیورسٹیوں میں خواتین کے تعلیم میں وقفہ ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ امریکہ اس کا جواب پابندیوں کے ساتھ دے گا۔پرائس نے کہا ہے کہ طالبان کا فیصلہ افغانستان کی آبادی کے نصف حصّے کو اعلیٰ تعلیم سے محروم کر دے گا۔ ملکی اقتصادیات میں خواتین کا سالانہ حصہ 1 بلین ڈالر سے زیادہ ہے اور طالبان اس حصے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ سال 15 اگست کو ملکی انتظام سنبھالنے کے بعد طالبان نے لڑکیوں کی پرائمری اور یونیورسٹی تعلیم کی اجازت دے دی تھی۔یونیورسٹی میں نوجوان لڑکیوں کے حصولِ تعلیم کی خاطر طالبان نے لڑکیوں اور لڑکوں میں تعلیمی دنوں کی تقسیم کر دی تھی۔ لڑکیاں اپنے دنوں کے دوران یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر سکتی تھیں۔تاہم لڑکیوں کی مڈل اور ہائی اسکول تعلیم کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔اگرچہ طالبان حکام نے لڑکیوں کے اسکولوں کو، “اسلامی اصول و قواعد” کے مطابق شکل دینے کے بعد، دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس اعلان پر عمل نہیں کیا گیا۔دریں اثناء پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افغان خواتین کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پر پابندی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے تاہم کہا ہے کہ بہترین طریقہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن کے دورے کے موقعے پر انہوں نے کہا کہ ’جو فیصلہ آج لیا گیا، مجھے اس سے مایوسی ہوئی ہے۔‘لیکن انہوں نے کہا کہ ’اب بھی میرے خیال میں ہمارے مقصد تک پہنچنے کا سب سے آسان راستہ خواتین کی تعلیم اور دیگر چیزوں کے حوالے سے بہت سی مشکلات کے باوجود کابل کا راستہ ہے اور عبوری حکومت کے ذریعے ہے۔‘اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور امریکہ کے وزیر خارجہ نے بھی طالبان کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔چہارشنبہ کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے افغانستان کے موجودہ حکام پر زور دیا کہ وہ ہر سطح پر تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنائیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’تعلیم سے انکار نہ صرف خواتین اور لڑکیوں کے مساوی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے ملک کے مستقبل پر تباہ کن اثرات پڑیں گے۔‘طالبان حکومت کا یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے اور اگلے حکم تک خواتین اب گھروں پر رہیں گی۔امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے کہا ہے کہ ان کو طالبان کے فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔انہوں نے ٹویٹ کیا کہ اس فیصلے نے واضح طور پر بین الاقوامی برادری میں طالبان کو اپنی حکومت کے تسلیم ہونے کے مقصد سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔