اقلیتوں اور کمزور طبقات کو کانگریس سے قریب کرنے کی ضرورت

   

محمد علی شبیر کی ملکارجن کھرگے سے ملاقات، ٹی آر ایس حکومت کی وعدہ خلافی کا تذکرہ
حیدرآباد۔/30 نومبر، ( سیاست نیوز) صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے کمزور طبقات اور اقلیتوں کو کانگریس سے قریب لانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جب بھی تلنگانہ کے دورہ پر آئیں گے ان طبقات کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ ملکارجن کھرگے نے نئی دہلی میں کانگریس کے سینئر قائد اور پولٹیکل افیرس کمیٹی کے کنوینر محمد علی شبیر کو یہ مشورہ دیا۔ محمد علی شبیر نے ملکارجن کھرگے سے تقریباً 25 منٹ طویل ملاقات میں تلنگانہ کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور کے سی آر حکومت کی جانب سے اقلیتوں اور کمزور طبقات سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 8 برسوں میں حکومت نے مسلمانوں کو مایوس کردیا ہے۔ اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ کی اجرائی پر کوئی توجہ نہیں ہے اور کانگریس دور حکومت میں فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات کو بچانے کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں تعلیم اور روزگار میں 4 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے تھے اور دونوں تلگو ریاستوں میں ہر سال ہزاروں طلبہ کو تحفظات سے فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیر التواء ہے اور کے سی آر حکومت تحفظات کو بچانے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے ملکارجن کھرگے کو بتایا کہ ایس ٹی طبقہ کے تحفظات کو 6 سے 10 فیصد کرنے کے بعد جو روسٹر پوائنٹ جاری کئے گئے ان میں مسلم تحفظات صرف 3 فیصد ہیں۔ تلنگانہ میں کے سی آر حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے ملکارجن کھرگے نے اقلیتوں اور کمزور طبقات کو کانگریس سے قریب لانے کیلئے حکمت عملی تیار کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سینئر قائدین کو ضلع واری سطح پر اجلاس منعقد کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات اور اقلیتیں ہمیشہ کانگریس کے ساتھ رہے ہیں اور تلنگانہ میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں مذکورہ طبقات کانگریس کی تائید کریں گے۔ر