سخت قواعد ، کروڑہا روپئے پر مشتمل دلت بندھو اور کسان بندھو اسکیمات قواعد سے بالاتر
حیدرآباد ۔ 28 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی قرض اسکیم اقلیتوں کے لیے راحت کے بجائے زحمت میں تبدیل ہورہی ہے ۔ طویل عرصہ کے بعد حکومت نے بیروزگار اقلیتی نوجوانوں کو خود روزگار فراہم کرنے کے لیے 120 کروڑ روپئے منظور کیا ہے اور ساتھ ہی صرف ایک لاکھ اور دو لاکھ قرضوں کے حصول کے لیے سخت رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں جس سے معمولی قرض کی حصولی کے لیے کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ درخواست گذاروں سے سفید راشن کارڈ ، انکم سرٹیفیکٹ کے علاوہ دوسری تفصیلات طلب کی جارہی ہیں ۔ کافی طویل عرصہ سے حکومت نے راشن کارڈس کی اجرائی کو روکے رکھا ہے ۔ اس کے علاوہ جن کے پاس راشن کارڈ ہے ان لوگوں کی جانب سے مسلسل تین ماہ راشن شاپس سے راشن حاصل نہ کرنے پر ان کے راشن کارڈس منسوخ کردئیے گئے ہیں ۔ یہی نہیں قرض کے لیے درخواستیں داخل کرنے کے لیے ای سیوا یا می سیوا میں 500 تا 700 روپئے فیس وصول کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ انکم سرٹیفیکٹس حاصل کرنے کے لیے 1000 تا 2000 روپئے تک کے علحدہ اخراجات ہیں ۔ اس طرح ہر درخواست گذار پر کم از کم 2 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 3 ہزار روپئے کا مالی بوجھ عائد ہورہا ہے اور قرض ملنے کی گیارنٹی بھی نہیں ہے ۔ حصول قرض کے لیے بڑے پیمانے پر عوام سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔ آن لائن میں درخواستیں داخل کرنے کے بعد انہیں متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفسوں میں جمع کرانے کے لیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہونا پڑرہا ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود سے قرض کے حصول کے لیے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں اس پر نظر ثانی کرنا لازمی ہوگیا ہے ۔ تعجب کی بات ہے ، ریتو بندھو اسکیم سے سینکڑوں ایکڑ اراضی رکھنے والے کسانوں کو فائدہ پہونچایا جارہا ہے جس میں چیف منسٹر سے تمام وزراء ارکان اسمبلی ارکان پارلیمنٹ دولت مند اور انکم ٹیکس ادا کرنے والے تمام افراد شامل ہیں ۔ ان سے نا سفید راشن کارڈ طلب کیا جارہا ہے اور نہ ہی انکم سرٹیفیکٹ پوچھا جارہا ہے ۔ سال میں دو مرتبہ انہیں اس اسکیم سے لاکھوں روپئے کا فائدہ پہونچایا ہے اور یہ رقم واپس طلب بھی نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ دلت بندھو اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپئے کی مالی امداد کی جارہی ہے ۔ یہاں تک کے سرکاری ملازمین کو بھی اس اسکیم سے فائدہ پہونچایا جارہا ہے ۔ ان سے بھی راشن کارڈ یا انکم سرٹیفیکٹ طلب نہیں کیا جارہا ہے ۔ اقلیتی بیروزگار افراد کو خود روزگار فراہم کرنے کے لیے صرف ایک لاکھ اور دو لاکھ روپئے کا معمولی قرض فراہم کیا جارہا ہے ۔ جس کو دوبارہ ادا کرنا بھی ہے ۔ اس کے لیے سخت رہنمایانہ خطوط تیار کئے گئے۔ جس سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں حکومت کے رویے پر مایوسی پائی جاتی ہے ۔۔ ن