اقدامات قرارداد کے مطابق ہونے چاہیئے ، یو این او میں فلسطین کے مستقل نمائندہ کا کھلے اجلاس میں دوٹوک تبصرہ
نیویارک : فلسطین کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ ریاض منصور نے سلامتی کونسل کے ممبران سے کہا ہے کہ آپ کے اقدامات آپ کی قراردادوں کے مطابق ہونے چاہئیں یا تو اس نسل کشی کو روکیں یا پھر ہمیشہ کے لیے خاموش رہیں۔ ریاض منصور نے سلامتی کونسل کے غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر منعقد کھلے اجلاس میں خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل جرائم پر جرائم کرنے اور اقوام متحدہ کے ہر قانون کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے۔ منصور نے کہا کہ اسرائیل اس عزم کے ساتھ کام کر رہا ہے کہ اس کی قتل و غارت اور نوآبادیاتی ارادہ بین الاقوامی برادری کی جانیں بچانے اور امن قائم کرنے کے ارادے سے زیادہ مضبوط ہے۔منصور نے کہا کہ فلسطینیوں کو محاصرے میں بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں بھوکا رکھا جا رہا ہے اور انہیں ان کے قتل کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ چلے گئے تو واپس نہیں آ سکیں گیاسرائیل اس منصوبے کو ہم سب کی آنکھوں کے سامنے عملی جامہ پہنا رہا ہے جو کہ نا قابل قبول ہے۔منصور نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل ایک نسل پرست قانونی نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو خود کو برتر سمجھتا ہے اور غیر انسانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کب تک اسرائیل کو ہمارے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے اور ہمیں مٹانے کی کوششوں کی اجازت دیں گے؟ کیا یہ آپ کے لیے قابل قبول ہے کہ اسرائیل تباہی اور بھوک کے ذریعے غزہ کے شمال سے شروع کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو ختم کرے؟ کیا آپ کے پاس کچھ بھی کرنے کو نہیں ہے؟ آپ کے پاس بہت کچھ کرنے کو ہے۔ فلسطینی عوام نے ہتھیار نہیں ڈالے آپ کو بھی نہیں ڈالنے چاہئیں۔”منصور نے اقوام متحدہ کے ممبران کی مذمت کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کب جوابدہی میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اگر بین الاقوامی برادری نے کارروائی نہیں کی تو اسرائیل اپنے جرائم میں نئی سطح پر پہنچ جائے گانسل کشی کو سزا نہ ملنے سے ممکن بنایا جاتا ہے اسرائیل نے ہر سرخ لکیر کو عبور کیا، ہر قانون کی خلاف ورزی کی اور ہر پابندی کو توڑا۔ آپ بس کب کہیں گے ؟ آپ کب کارروائی کریں گے؟ آپ کے اقدامات آپ کی قراردادوں کے مطابق ہونے چاہئیں یا تو اس نسل کشی کو روکیں یا پھر ہمیشہ کے لیے خاموش رہیں۔