نیویارک : اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک خاتون سمیت پانچ کارکنوں کو حراست میں لینے اور پھر ان کی جسمانی تلاشی پر اسے تشویش لاحق ہے۔ کابل میں خواتین کے حقوق سے متعلق ایک تنظیم کے لانچ کے وقت انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ نے 4 نومبر جمعہ کے روز کابل میں گرفتار کیے گئے انسانی حقوق کے 5 کارکنوں کی سلامتی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ جمعرات کے روز خواتین سے متعلق انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا افتتاح کیا گیا اور اسی سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کارکنوں گرفتار کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے ایک ترجمان جیرمی لارنس نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان پولیس نے 4 مردوں اور ایک خاتون، ظریفہ یعقوبی کو اس وقت گرفتار کیا، جب وہ خواتین کے حقوق سے متعلق ’افغان وومنز مومونٹ فار ایکویلیٹی‘ کے نام سے ایک گروپ شروع کرنے کے لیے کانفرنس میں شرکت کر رہے تھے۔ لارنس کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس میں شرکت کرنے والی دیگر خواتین کو بھی، مبینہ طور پر ان کی جسمانی اور فون کی تلاشی کے لیے، تقریباً ایک گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔ انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں ان پانچ افراد کی فلاح و بہبود کے بارے میں تشویش لاحق ہے اور ہم نے ان کی حراست کے بارے میں ڈی فیکٹو حکام سے معلومات بھی طلب کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرچہ ملک میں اسلام پسند طالبان کی حکومت ہے، تاہم افغانستان اب بھی تشدد کے خلاف کنونشن سمیت، بنیادی بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور دیگر کنونشنوں کا ایک فریق ہے۔