نیویارک : اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہیکہ وہ طالبان حکومت کی طرف سے خواتین پر پابندیاں عاید کرنے کے باوجود افغانستان کو امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر رمیز الکبروف نے نامہ نگاروں کو بتایا میں آپ پر یہ واضح کر دوں کہ اقوام متحدہ اپنے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں کے ساتھ افغانستان کے لوگوں کو زندگی بچانے والی خدمات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔الکبروف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی انسانی ضروریات ’’بہت زبردست‘‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر جامع انسانی کام فراہم کرنا ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ضروری ہیکہ ہم موجود رہیں اور کام انجام دیں۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ امداد کبھی مشروط نہیں ہوتی۔ آپ بھوک سے مرنے والے یا مرنے والے شخص کو خوراک یا صحت کی امداد فراہم کرنے کیلئے شرائط طے نہیں کرسکتے۔ ا نہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر اور اقوام متحدہ کے دیگر اہلکار آنے والے ہفتوں میں افغانستان کا دورہ کریں گے تاکہ طالبان حکمرانوں سے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جاسکے، جنہوں نے حال ہی میں خواتین کو یونیورسٹیوں میں جانے سے روکا تھا۔