سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیم
ہم بھی آخر کو جی چرانے لگے
ہندوستان جیسے وسیع و عریض جمہوری ملک میں الیکشن کمیشن کا وجود انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے ہاتھ ہی میں ملک کی جمہوریت اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ سارے ملک میں تمام ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اور پارلیمانی انتخابات آزادانہ اور منصفانہ طور پر منعقد کرنے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہوتی ہے ۔ ملک میں الیکشن کمیشن کی تشکیل کا جو عمل تھا اور اس کیلئے جو کمیٹی تھی وہ انتہائی ذمہ دارانہ اور منصفانہ نوعیت کی ہوا کرتی تھی ۔ اس میںوزیر اعظم ‘ چیف جسٹس آف انڈیا اور قائد اپوزیشن کو شامل کیا جاتا تھا تاکہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کا عمل کسی ایک فریق کے حق میں نہ ہو جائے اور کسی ایک فریق کو کمیشن میں غلبہ حاصل نہ ہوجائے ۔ برسر اقتدار جماعت اور اپوزیشن سے ایک ایک ذمہ دار رکن کے علاوہ ملک کے چیف جسٹس کو شامل کیا جاتا تھا اور یہ انتہائی مناسب روایت ہوا کرتی تھی ۔ تاہم مودی حکومت نے 2023 میںقانون تبدیل کردیا اور اس میں چیف جسٹس کی بجائے ایک مرکزی وزیر کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یہیں سے کمیشن میں بگاڑکی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ مرکزی وزیر کا جہاں تک سوال ہے تو اس کا انتخاب خود وزیر اعظم عمل میں لاتے ہیں اور اگر وزیر اعظم ہی کسی کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کرنا چاہیں تو پھر وہ مرکزی وزیر بھی ان کا حامی ہی ہوگا اور ان کے فیصلے سے اختلاف کی جراء ت نہیںکرے گا کیونکہ اسے اپنی مرکزی وزارت بچانے کی فکر لاحق ہوگی ۔ ایسے میں اس کمیٹی میں قائد اپوزیشن کی موجودگی بالکل بے معنی اور بے اثر ہو کر رہ گئی ہے اور اس کا اظہار ایک سے زائد مرتبہ قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے بھی کیا ہے ۔ انہوں نے کئی مواقع پر اپنی ناراضگی کا برسر عام اظہار بھی کیا ہے اور اپنی رائے کا سوشیل میڈیا پر بھی اظہار کرنے سے قطعی گریز نہیں کیا ہے ۔ اسی بات کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس دیپانکر دتا نے بھی گذشتہ دن اپنی رولنگ میں واضح کیا ہے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو صرف غیرجانبدار ہونا ہی بلکہ غیر جانبدار دکھائی بھی دینا ضروری ہوتا ہے ۔
جسٹس دیپانکر دتا نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر آج کے وقت میں ایسا ہوگیا ہے کہ کوئی بیٹنگ کرنے والی ٹیم ہی امپائر کا انتخاب عمل میں لائے ۔ اس طرح سے اگر امپائر غیرجانبدار ہو بھی تو جانبداری کے شبہات موجود رہتے ہیں۔ یہی حال الیکشن کمیشن کا بھی ہے ۔ حکومت بھلے ہی اپنے فیصلے کا کوئی جواز پیش کرتی رہے اور اسے درست قرار دینے کیلئے گودی میڈیا کے اچھل کود کرنے والے تلوے چاٹو اینکرس کو بھی ایکٹیو موڈ پر سرگرم کردے تاہم عدلیہ کی رائے سب سے افضل ہوتی ہے اور سپریم کورٹ کے جج نے بھی یہ رائے ظاہر کردی ہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کا عمل مشکوک ضرور دکھائی دیتا ہے ۔ راہول گاندھی بھی اس پر بارہا اظہار خیال کرتے رہے ہیں اور اپنی ناراضگی ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ایک دن قبل الیکشن کمیشن میں جاری من مانی اور یکطرفہ فیصلوںکے خلاف اندرونی خلفشار کا جومیڈیا انکشاف ہوا ہے اس نے بھی اسی پہلو کو اجاگر کردیا ہے کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کو یہ یقین ہے کہ حکومت ان کے ساتھ ہے اور وہ حکومت کے ساتھ مل کر کچھ بھی کرسکتے ہیں اور انہیں کوئی جوابدہ نہیں بناسکتا ۔ تاہم یہ ان کی خام خیالی ہی کہی جاسکتی ہے کیونکہ اس ملک میں سب سے جوابدہی طلب کی جاسکتی ہے اور چیف الیکشن کمشنر ہوں یا ملک کی حکومت ہو سب کو عوام کے شکوک و شبہات کا جواب دینا پڑے گا اور یہ واضح کرنا پڑے گا کہ انہوں نے دیرینہ طریقہ کار کو تبدیل کیوں کیا ۔
ہندوستان کی جمہوریت ساری دنیا میں منفرد سمجھی جاتی تھی ۔ گذشتہ ایک دہے سے زائد کے عرصہ میں اس جمہوری عمل کو ہر طریقہ سے داغدار کردیا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن میں ایک فرد کے اور من مانی فیصلے کئے گئے ۔ دو ساتھی الیکشن کمشنران کی رائے کو خاطر میں لائے بغیر ہدایات جاری کی گئیں اور اب عدلیہ نے کمیشن کی تشکیل کے طریقہ کار پر ہی سوال اٹھائے ہیں۔ ان سارے سوالات کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور حکومت کو اور خود الیکشن کمیشن کو ان سوالات کے جواب دینے اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔