بیجنگ : چین نے خفیہ جوہری اسٹریٹجی کی منظوری دینے پر امریکہ کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ امریکہ، چین کو جوہری خطرہ قرار دے کر، جوہری اسلحے کے خاتمے کی ذمہ داری سے فرار کی کوشش کر رہا ہے۔چین وزارت خارجہ کی ترجمان ماو ننگ نے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں امریکی روزنامہ ‘نیویارک ٹائمز’ کے شائع کردہ اور صدر بائیڈن کے امریکی فوج کو، روس، چین اور شمالی کوریا کی طرف سے، کسی ممکنہ جوہری جنگ کے مقابل تیاری کا حکم دینے سے متعلقہ دعوے کا جائزہ لیا ہے۔ماوننگ نے کہا ہے کہ حالیہ سالوں میں امریکہ چین کو “جوہری خطرہ” قرار دے رہا اور اس دعوے کو جوہری اسلحے کے خاتمہ کی ذمہ داری سے بچنے کے لئے بطور بہانہ استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ “دنیا میں جوہری اور اسٹریٹجک خطرات کا منبع خود امریکہ ہے۔ چین کے جوہری ایمونیشن کی تعداد کبھی بھی امریکہ کے برابر نہیں ہوئی۔ چین، جوہری اسلحے کے استعمال میں، پہل نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور اپنی جوہری صلاحیت کو قومی دفاعی ضروریات کی کم ترین سطح پر براقرار رکھے ہوئے ہے۔ ہم دوسرے ممالک کے ساتھ اسلحے کی دوڑ میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے”۔ماو نے کہا ہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ اور جدید جوہری اسلحے کا مالک ہے۔ امریکہ جوہری اسلحے کا استعمال کرنے والا پہلا ملک ہے اور جوہری جارحیت کی پالیسی پر کاربند ہے۔ لہٰذا واشنگٹن انتظامیہ کو جوہری اسلحے کی تعداد میں کمی اور صفائی کے لئے بھی خصوصی اور اوّلین کردار ادا کرنا اور اس معاملے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے”۔انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کو ،جوہری اسلحے کے تبادلے، جوہری جارحیت کے پھیلاو اور جوہری اتحادوں میں توسیع جیسے گلوبل اور علاقائی امن کی بیخ کنی کرنے والے، منفی اقدامات سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ روزنامہ نیو یارک ٹائمز نے دعوی کیا تھا کہ صدربائیڈن نے مارچ کے مہینے میں امریکی فوج کو حکم دیا ہے کہ امریکہ کی جوہری جارحانہ حکمت عملی کی تنظیمِ نو کی جائے اور اس تنظیمِ نو میں، چین کی جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری اسلحے کے مقابل، امریکی جوہری اسلحے کی تعداد میں تیزی سے اضافے پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔خبر میں دعوی کیا گیا تھا کہ وائٹ ہاوس نے بائڈن کے اس فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔ ‘جوہری ڈیوٹی گائیڈ لائن’ نامی یہ حکمت عملی، روس، چین اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری اتحاد کے مقابل، تیاری کے منصوبوں پر مبنی ہے۔