لندن، 4 اگست (یو این آئی) امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق جاری مذاکرات میں پیشرفت کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ عالمی معیار کے برینٹ خام تیل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتیں 13 جولائی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5فیصد کمی کے بعد اس کی قیمت 80ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جبکہ امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 5فیصد سے زائد سستا ہو کر تقریباً 76 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ نمایاں کمی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ان بیانات کے بعد سامنے آئی، جن میں انہوں نے کہا کہ ایران اور عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد بحال ہونے کی امید ہے ۔ روبیو نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے ، تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے ۔ دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا معاہدہ منگل یا چہارشنبہ تک طے پانے کا امکان ہے ۔ اگرچہ امریکی حکام مذاکرات میں پیشرفت کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم ممکنہ معاہدہ کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئیں، جبکہ ایران کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کئی بار مذاکرات کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ کشیدگی میں اضافہ کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے اثرات دنیا بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوئے ۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے ، جہاں سے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ سے قبل دنیا بھر میں یومیہ سپلائی ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔