امریکہ ، ایران معاہدہ کے قریب؟ ہرمز پر 48 گھنٹوں میں پیشرفت ممکن

,

   

امریکی ٹریژری سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ کا دعوی ۔ سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی پیشرفت کی توثیق کی

واشنگٹن4 اگست (یو این آئی) امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ و ایران کے درمیان آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں ایک ایسے معاہدے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل بحری آمدورفت کیلئے کھول دیا جائے گا، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق کی ہے ۔ سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکی حکام اس وقت بھی ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں اور انہیں امید ہے کہ آج یا کل معاہدہ طے پا سکتا ہے ، جس کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ انتظام کے تحت ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا اور بین الاقوامی جہاز رانی کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کو یقینی بنایا جائیگا ۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے محکمہ خارجہ میں صحافیوں سے کہا کہ ایران اور عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے مزید بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے ، تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے گا۔ادھر ایران کی جانب سے ان امریکی دعوؤں پر فوری باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تہران اس سے قبل یہ کہہ چکا کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ۔یہ پیشرفت ایسے وقت ہوئی ہے جب قطر نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور ممکنہ معاہدہ کے مسودے مختلف فریقوں کے درمیان زیر غور ہیں۔قطری وزارت خارجہ ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق قطر اور عمان دونوں ممالک تجاویز اور مسودوں کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے ۔عمان کی ثالثی میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ ایران آنے اور جانے والے بحری راستوں کے انتظام میں مخصوص اختیارات کا خواہاں ہے ۔