ڈھاکہ: امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ان کے ملک کا بنگلہ دیش کے ساتھ 50 برسوں کا دوطرفہ تعلق ہے اور وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے بجائے حقیقی جمہوری عمل کی حمایت کرتا ہے ۔ ملر نے یہ تبصرہ بنگلہ دیش میں آزادانہ، منصفانہ اور شرکت پر مبنی انتخابات کے بارے میں ایک باقاعدہ بریفنگ میں کیا۔ بنگلہ دیش کے انتخابات پر امریکی موقف پر روس، چین اور ایران کی تنقید کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں آپ کو یاد دلانا چاہوں گا کہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بارہا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا تھا کہ جب کوئی دوسرا ملک امریکی انتخابی عمل پر تنقید کرتا ہے تو ہم اسے مداخلت نہیں سمجھتے ۔ میں اس تنقید کو ہماری جمہوریت کو مضبوط کرنے میں مددگار سمجھتا ہوں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کوئی دوسرا ملک کیوں اعتراض کرے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کی انڈر سیکرٹری برائے شہری دفاع، انسانی حقوق اور جمہوریت عذرا زیا نیز جنوبی اور وسطی ایشیا کے لئے امریکی معاون سکریٹری ڈونالڈ لو کے دورہ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ملر نے کہا کہ عذرا زیا 11 سے 14 جولائی تک بنگلہ دیش کا دورہ کریں گی۔ ملر نے کہا کہ اس دورے کے دوران عذرا زیا بنگلہ دیش حکومت کے حکام کے ساتھ انسانی حقوق، روہنگیا پناہ گزینوں کے بحران، مزدوروں کے مسائل، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات اور انسانی اسمگلنگ جیسے مسائل پر بات کریں گی۔
فارنسک ماہرین لاشوں کی شناخت کر رہے ہیں جن میں تین نابالغ بھی شامل ہیں۔ایجنسی نے کہا کہ تقسیم کا مرکز 630,000 مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں تقریباً 40,000 افراد کام کرتے ہیں۔ یہ 1994 میں قائم کیا گیا تھا اور اس میں تقریباً 2,000 گودام اور کاروبار ہیں۔