حیدرآباد : ( سیاست نیوز ) امریکی ایمیگریشن کا عمل مسلسل دو برسوں تک سست روی کا شکار رہا ۔ امریکہ کو نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں اس عرصہ کے دوران بہت کمی دیکھی گئی جس کی اہم وجہ کوروناوائرس کی عالمی وبا تھی ۔ جس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں حکومتوں نے مختلف پابندیاں عائد کی تھی ۔ تاہم اب امریکہ منتقل ہونے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ چاہے وہ طلبہ ہو یا مختلف پیشہ سے وابستہ ماہرین ان کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ دوسری طرف ایسی صنعتوں میں ملازمین کی قلت پائی جاتی ہے جو زیادہ تر بیرونی ورکرس پر انحصار کیا کرتی ہیں ۔ اپنی سرحدیں دوبارہ رکھولنے کے بعد امریکہ میں غیر امریکی ورکرس کا بہاؤ بڑی تیزی سے بڑھا ہے ۔ ایسا بہاؤ سال 2019 میں دیکھا گیا ۔ ان حقائق کا اظہار یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں اقتصادیات کے پروفیسر گیووانی پیری کے ایک تجزیہ میں کیا گیا ہے ۔ لیکن جون تک امریکہ میں 1.7 ملین سے کم ورکنگ ایج ایمیگرنٹس قیام پذیر تھے اگر 2020 سے پہلے کی رفتار جاری رہتی تو حالات کچھ اور ہوتے ۔ بہر حال ان میں سے 6 لاکھ وہ ہیں جنہوں نے گریجویشن کیا ہے ۔ گیوانی پیری کے مطابق جب تک ہم اس مسئلہ پر کارروائی کے لیے مزید وسائل پیدا نہیں کریں گے یا ہم ویزوں کی اجرائی نہیں بڑھائیں گے تب تک مجھے نہیں لگتا کہ ہم اس ہدف کو حاصل کریں گے ہاں ہم ترقی کرتے رہیں گے لیکن اس خلاء کو پر نہیں کرپائیں گے جو کووڈ 19 کے دوران پیدا ہوا تھا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ دو برسوں میں امریکی آجرین کو ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ جن میں تعمیراتی شعبہ ، مہمان نوازی کا شعبہ اور خدمات کا شعبہ شامل ہیں ۔ ان شعبوں میں زیادہ تر تارکین وطن ورکرس پرانحصار کیا جاتا ہے ۔ ایک بات ضرور ہے کہ امریکہ میں 2017 میں تارکین وطن ورکروں کی آمد اور ایمیگریشن میں گراوٹ آنے لگی کیوں کہ صدر ٹرمپ نے سخت قوانین متعارف کروائے تھے ۔ فیڈرل ریزرو بنک آف ڈلاس سے وابستہ ایک سینئیر ماہر اقتصادیات پیااورینٹیس کہتے ہیں کہ تارکین وطن ورکروں کی خدمات حاصل کرنے سے متعلق مسئلہ کا حل نہیں نکالا جاتا ہے تو اس سے ایمیگریشن اور ورکروں کی قلت پیدا ہوسکتی ہے جس کا نتیجہ تجارتی سرمایہ کاری کی شکل میں نکلے گا ۔