امریکہ نے عراق پر حملے کیلئے جھوٹے ثبوت فراہم کئے تھے : سابق فرانسیسی وزیر دفاع

   

پیرس : فرانس کی سابق خاتون وزیر دفاع مائیکل ایلیٹ میری نے پولیٹیکل میموری پروگرام جس کی اقساط بعد میں ’العربیہ‘ پرنشر کی جائیں گی میں انکشاف کیا ہے عراق پر امریکہ کی فوج کشی غلط اورجعلی سبوتوں کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ پیرس نے اس وقت امریکی قیادت کی طرف سے عراق پر حملے کے لیے پیش کردہ جواز مسترد کر دیے تھے۔ امریکہ نے عراق میں گندم کے گوداموں کی تصاویر کو میزائل ڈپو بنا کرپیش کیا تھا اور ہم جانتے تھے کہ یہ گندم کے گودام ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2002ء میں ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ رمز فیلڈ نے یورپی وزرائے دفاع کے ساتھ ملاقات میں امریکی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر پر روشنی ڈالی۔ اس میں انہوں نے ایک عراقی شہری سہولت کو دکھایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ جگہ میزائل داغنے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ دوسری طرف فرانسیسی وزیر دفاع نے اسی جگہ کی لی گئی تصاویر دکھائیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گندم کے گودام تھے۔مائیکل ایلیٹ میری نے کہا کہ اس دور کے آغاز میں جس میں میں نے وزارت دفاع کا منصب سنبھالا تھا، ہم پراگ یا وارسا میں ایک میٹنگ میں ملے تھے، مجھے اب ٹھیک سے یاد نہیں کہ ڈونلڈ رمزفیلڈ کے ساتھ جو میرے امریکی ہم منصب تھے اور کہاں تھے جو اس وقت یورپیوں کو عراق میں ہونے والے آپریشن میں حصہ لینے پر آمادہ کرنا چاہتا تھا، وہ بہت سے ہتھیاروں کے ساتھ آیا تھا۔ سیٹلائٹ کی تصاویر سے اس نے ہمیں دکھایا جہاں میز کے ارد گرد وزراء موجود تھے۔اس نے ان کے سامنے تصاویر پیش کیں۔ میزائل لانچرز کی مبینہ تصاویر دکھائیں اور کہا کہ صدام حسین ان پلیٹ فارمز کو میزائل لانچ کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔سابق وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ”مجھے اس کی بازگشت ملاقات سے کچھ دن پہلے موصول ہوئی تھی کہ رمز فیلڈ کیا کہنے اور ہمیں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس لیے میں نے اپنے سیٹلائٹس کی بنیاد پر فرانسیسی فوج سے کہا کہ وہ عراق کی زیادہ سے زیادہ تصویریں لیں