امریکہ کے جیت کے دعوے

   

آبادی بھی دیکھے ہیں ویرانے بھی دیکھے ہیں
جو اُجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے
ایران کے خلاف جنگ دو ہفتوں کیلئے رک گئی ہے ۔ دو ہفتوں کی جنگ بندی نے ساری دنیا میں ایک طرح کی راحت کا ماحول پیدا کردیا ہے ۔ جو شدید اندیشے اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی وہ تھم گئی ہے ۔ دنیا بھر میں قدرے سکون کا ماحول پیدا ہونے لگا ہے حالانکہ اسرائیل کی جانب سے اس امن کو بھی درہم برہم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ہے اور لبنان پر انتہائی ہلاکت خیز حملہ کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے ۔ اسرائیل در اصل نہیں چاہتا کہ ایران کے خلاف جنگ رک جائے یا ختم ہوجائے ۔ لمحہ آخر تک جو سفارتی کوششیں کی گئیں ان کے نتیجہ میں جنگ میں دو ہفتوں کیلئے تعطل آگیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ان دو ہفتوں میں مستقل جنگ بندی کیلئے مذاکرات کئے جائیں گے ۔ امریکہ ہو یا ایران ہو دونوں نے ہی جنگ بندی اور پھر مزید مذاکرات سے اتفاق کیا ہے ۔ ساری دنیا میں اس جنگ بندی کو بھی ایران کی مثالی فتح قرار دیا جا رہا ہے اور ایران نے امریکہ کا جس دلیری اور حوصلے سے سامنا کیا اور جو جوابی کارروائیاں کی تھیں وہ یقینی طور پر مثالی تھیں۔ ایران نے خود اپنی جیت کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن ساری دنیا میں ایران کی جیت کا جشن منایا جا رہا ہے ۔ ایسے میں امریکہ نے بھی اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کوشش کی ہے اور یہ دعوی کردیا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں فاتح رہا ہے اور اس نے جن مقاصد کیلئے جنگ شروع کی تھی وہ پورے ہوگئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو جنگ جن مقاصد کیلئے شروع کی گئی تھی ان میں ایک بھی مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور امریکہ کیلئے جنگ بندی اس جنگ سے بچ نکلنے کی ایک راہ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ اس جنگ نے ایک طرف امریکہ کو کامیابی نہیں دلائی تو دوسری طرف امریکہ کا سوپر پاور ہونے کا غرور بھی خاک میں ملا دیا تھا ۔ ایران نے کئی برسوں کی تحدیدات اور محدود وسائل کے باوجود ظلم کے آگے سرنگوں ہونے سے جو انکار کیا تھا اس نے ساری دنیا پر اپنا ایک خاص اثر چھوڑا ہے ۔ ساری دنیا میں ایران کے اس عزم و حوصلے کی ستائش کی جا رہی ہے اور اس کی مثال دی جا رہی ہے ۔
جہاں تک امریکہ کا سوال ہے وہ بھلے ہی اپنے آپ کو شاباشی دے رہا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ نے امریکہ کا سوپر پاور ہونے کا غرور خاک میں ملا دیا ہے ۔ اس 40 دن کی جنگ نے دیکھا کہ کس طرح سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک طرح سے اپنا ذہنی توازن کھونے لگے تھے ۔ وہ لگاتار متضاد بیانات دے رہے تھے ۔ ہر بیان ایک دوسرے سے مختلف رہا تھا ۔ امریکہ نے ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے مقصد سے جنگ شروع کی تھی ۔ حالانکہ امریکہ و اسرائیل ایران کے رہنماء آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید تو کرنے میں کامیاب رہے لیکن اقتدار کی تبدیلی ممکن نہیں ہوسکی ۔ ایران نے یہ واضح کردیا کہ وہ کسی شخصیت پر انحصار نہیں کرتا تھا بلکہ وہ ایک کردار پر عمل پیرا ہے اور کردار شخصیتوں کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ مزید مستحکم ہوتا ہے ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے اسی کردار کو ساری دنیا پر واضح طو پر پیش کیا ہے ۔ امریکہ نے ایران کی فوجی صلاحیت کو ختم کردینے کا دعوی بھی کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی فوج نے انتہائی بہادری اور دلیری کے ساتھ ظالم طاقتوں کا سامنا کیا ہے اور اپنے ملک کا وقار متاثر ہونے نہیں دیا ہے ۔ محدود وسائل کے ساتھ ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے ۔ امریکہ نے ایران کے نیوکلیر پروگرام کو ختم کرنے کا بھی دعوی کیا ہے جبکہ ایران اپنی شرائط میں اپنے نیوکلیر حقوق کے تحفظ کے مطالبہ پر اب بھی اٹل ہے ۔ امریکہ کا یہ دعوی بھی غیر درست ہی ثابت ہوا ہے اور اس کے باوجود وہ جیت کا اعلان کر رہا ہے جو مضحکہ خیز ہے ۔
ایک پہلو سب سے اہمیت کا حامل ہے اور وہ ہے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا ۔ ایران پر جو جنگ مسلط کی گئی تھی اس سے قبل آبنائے ہرمز سے تمام ممالک کے جہاز بڑے سکون اور اطمینان سے گذر رہے تھے اور اس پر ایران نے اپنی گرفت نہیں بنائی تھی ۔ اس جنگ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو بحال کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے اور یہ امریکہ کی سب سے بڑی ناکامی ہی کہی جاسکتی ہے ۔ بحیثیت مجموعی ایران نے نہ صرف یہ جنگ عملا جیتی ہے بلکہ ساری دنیا میں عزت و وقار بھی حاصل کیا ہے جبکہ امریکہ کو نہ صرف اس جنگ میں عملا شکست ہوئی ہے بلکہ اس کا سوپر پاور ہونے کا غرور بھی خاک میں مل گیا ہے ۔