اپنے سب سے بڑے عطیہ دہندہ ملک کے اس اقدام پر اقوام متحدہ کو افسوس، امریکی انخلاء کیلئے ٹرمپ کو ایک سال کا نوٹس دینا ہوگا
نیویارک: امریکہ 22 جنوری 2026 کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کو چھوڑ دے گا، یہ بات اقوامِ متحدہ نے بتائی۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کو آگاہ کیا گیا جس کے بعد ادارے کا یہ بیان سامنے آیا۔ ٹرمپ نے ایجنسی پر وبائی امراض اور صحت کے دیگر بین الاقوامی بحرانوں کو درست طریقے سے نہ سنبھالنے کا الزام لگایا ہے۔ٹرمپ نے پیر کے روز دوسری مرتبہ چار سالہ مدتِ صدارت کیلئے حلف برداری کے چند ہی گھنٹے بعد اس اقدام کا اعلان کیا۔ ڈبلیو ایچ او نے منگل کو کہا کہ اسے اپنے سب سے بڑے عطیہ دہندہ ملک کے اس اقدام پر افسوس ہوا۔ٹرمپ کو جنیوا میں قائم ادارے سے امریکی انخلاء کیلئے ایک سال کا نوٹس دینا ہو گا اور امریکی کانگریس کی 1948 کی مشترکہ قرارداد کے تحت واشنگٹن کو ادارے کے واجبات ادا کرنا ہوں گے۔امریکہ ڈبلیو ایچ او کا سب سے بڑا مالی معاون ہے جو اس کی مجموعی فنڈنگ کا تقریباً 18 فیصد حصہ دیتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا 2024-2025 کیلئے حالیہ دو سالہ بجٹ 6.8 بلین ڈالر تھا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ادارے کو امریکہ کے کتنے واجبات ادا کرنے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا، “میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ اب ہمیں ڈبلیو ایچ او سے انخلاء سے متعلق امریکی خط موصول ہوا ہے۔ اس کی تاریخ 22 جنوری 2025 ہے۔ یہ اگلے سال 22 جنوری 2026 کو نافذ ہو گا۔”ڈبلیو ایچ او کے اندر اور باہر متعدد ماہرین کے مطابق امریکہ کے علیحدہ ہو جانے سے ممکنہ طور پر پوری تنظیم کے پروگراموں خاص طور پر تپِ دق (ٹی بی) نیز ایچ آئی وی/ایڈز اور صحت کے دیگر ہنگامی حالات کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔دستبرداری کیلئے ٹرمپ کے دستخط شدہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ ڈبلیو ایچ او کے وبائی امراض کے معاہدے پر مذاکرات ختم کر دے گی جب تک کہ دستبرداری جاری ہے۔ حکم نامے کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ساتھ کام کرنے والے امریکی حکومت کے اہلکاروں کو واپس بلا لیا جائے گا اور حکومت ادراے کی ضروری سرگرمیاں سنبھالنے کیلئے شراکت داروں کی تلاش کرے گی۔ڈبلیو ایچ او سے ٹرمپ کی دستبرداری غیر متوقع نہیں تھی۔ انہوں نے بطور صدر اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 2020 میں بھی ادارہ چھوڑنے کیلئے اقدامات کیے تھے۔ تاہم اس وقت امریکی انخلاء مکمل ہونے سے پہلے جو بائیڈن نے صدارتی انتخاب جیت لیا اور 20 جنوری 2021 کو عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن احکامات روک دیئے۔