امریکی خاندان کا حقانی نیٹ ورک اور طالبان کیخلاف مقدمہ

   

نیویارک: امریکی قانونی فرم موٹلی رائس نے ایک امریکی خاندان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک اور افغانستان میں طالبان کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے جس میں ان پر پانچ سال کی قید کے دوران جسمانی اور نفسیاتی طور پر تشدد کرنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔موٹلی فول کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کیٹلان کولمین اور ان کے شوہر جوشوا بوئل کو اکتوبر 2012ء میں طالبان نے افغانستان میں اغوا کیا تھا۔ اس کے بعد انہیں پاکستان لے جایا گیا، جہاں وہ پانچ سال تک قید رہے۔کمپنی کے بیان کے مطابق یہ شکایت 2017ء میں ان کی رہائی کے بعد پنسلوانیا کی ایک عدالت میں دائر کی گئی تھی، جہاں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ہاتھوں “ناقابل بیان اذیت” کا سامنا کرنا پڑا۔شکایت کرنے والے امریکی جوڑے کا کہنا ہے کہ ’انہیں مارا پیٹا گیا، غیر قانونی قید میں رکھا گیا ،نفسیاتی اور جسمانی تشدد” کا نشانہ بنایا گیا۔ اس تشدد نے ان کیجسم اور صحت پر گہرے نفسیاتی اور جسمانی اثرات چھوڑے‘۔کمپنی کے وکلاء میں سے ایک مائیکل الزینر نے کہا کہ کیٹلان کی زندگی پھر کبھی پہلے جیسی نہیں ہوگی۔