اپنی آواز بھی لگتا ہے کہ مجرم ہے یہاں
ہر سلوک آپ کا شائستہ ہے معیاری ہے
امریکہ اور ایران کے مابین جو عبوری امن معاہدہ طئے پایا ہے اور جس پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط بھی کردئے ہیں اس کے بعد سے ہی یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ اسرائیل کی جانب سے اس معاہدہ کو سبوتاج کرنے کی کوششیں ضرور کی جائیں گی ۔ اسرائیل نے ابتداء ہی سے اپنے عزائم واضح کردئے تھے کہ وہ اس معاہدہ سے خوش اور مطمئن نہیں ہے اور وہ صرف امریکہ کے دباؤ میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ یہ خاموشی بھی صرف بظاہر تھی جبکہ اسرائیل کے کئی قائدین نے اور خود وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے یہ واضح کردیا تھا کہ وہ لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے ۔ اسرائیل کے عزائم کی وجہ سے لگاتار یہ اندیشے پیدا ہو رہے تھے کہ اسرائیل اس امن معاہدہ کو سبوتاج کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھے گا اور معاہدہ کے ایک دن بعد ہی اس نے اپنے منصوبوںپر عمل کا آغاز بھی کردیا ہے ۔ چونکہ ایران لبنان کے معاملے میں کنارہ کشی اختیار کرنے کو تیار نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ لبنان میں بھی جنگ بندی پر عمل آوری ہوا ور لبنان میں اسرائیل کے حملوںاور اس کی جارحیت کا سلسلہ روکا جائے ۔ اسی لئے اسرائیل نے لبنان کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے منصوبوں پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے اور وہ چاہتا ہے ایران لبنان پر حملوں کے جواب میں امن معاہدہ کی خلاف ورزی کرے تاکہ امریکہ ایک بار پھر فوجی کارروائیوں کی سمت راغب ہوسکے ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ بات دنیا کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ کچھ طاقتیں اب بھی ایسی ہیں جو اسرائیل کے عزائم کو سمجھنے کے باوجود خاموشی اختیار کی ہوئی ہیں۔ امریکی صدر اور نائب صدر وقفہ وقفہ سے اسرائیل پر ناراضگی اور برہمی کا اظہار کر رہے ہیں لیکن وہ سختی کے ساتھ اسرائیل کو کوئی پیام دینے سے گریز کر رہے ہیں یا پھر اسرائیل انہیں خاطر میںلانے کو تیار نہیں ہے ۔ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے پیش نظر ایران نے جنیوا میں ہونے والی بات چیت کو ملتوی کردیا ہے اور امن معاہدہ کے تعلق سے اب اندیشوں کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ایران نے بھی اس تعلق سے ابتداء ہی سے اپنے خدشات ظاہر کردئے تھے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اسرائیل کے عزائم پر خاموشی کا سلسلہ توڑا جائے اور جو ضروری کارروائی ہو اس کو یقینی بنایا جائے تاکہ جو عبوری امن معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طئے پایا ہے اس کو مستقل معاہدہ میں تبدیل کیا جاسکے اور دنیا میں اور خاص طور پر مشرق وسطی میںقیام امن کو یقینی بنایا جاسکے ۔ اسرائیل کو اس کے عزائم کی وجہ سے سارے خطہ کو مشکلات کا شکار کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ اس کی جارحیت کا سلسلہ مزید دراز ہونے سے روکنے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ مشرق وسطی جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کے ساری دنیا پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک ماہ کی جنگ اور اس کے بعد کے حالات میں دنیا پر جو اثرات ہوئے ہیں وہ سب پر عیاں ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی تھی ۔ فیول اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی تھی ۔اس کی قیمتیںآسمان کو چھونے لگی تھیںاور عام آدمی کو اس کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ اگر حالات کو مزید بگڑنے کی اجازت دی گئی اور فوری طور پر اسرائیل کو روکا نہیں گیا تو مستقبل میں بھی مشکل حالات کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ جو معاہدہ امریکہ اور ایران کے مابین کافی طویل مذاکرات کے بعد ممکن ہوا ہے اس کا مستقبل بھی خطرہ میں پڑ جائے گا اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے حالات کے اثرات ساری دنیا پر مرتب ہوسکتے ہیں اور صورتحال کی بہتری کی امیدیں کم ہوجائیں گی ۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جہاںایران کے ساتھ معاہدہ کو یقینی بنایا ہے اور وہ اسے سابق میں طئے پائے معاہدہ سے بہتر قرار دے رہے ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس معاہدہ پر عمل آوری کو بھی یقینی بنائیں۔ اسرائیل کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے اس معاہدہ کو سبوتاج کرنے لگ جائے اور سارے خطہ کے مفادات کو متاثر کردیا جائے ۔ اسرائیل پر زور دیا جانا چاہئے کہ وہ ایسی حرکتیں نہ کرے جس کی وجہ سے معاہدہ کا مستقبل خطرہ میں پڑ جائے اور سارے خطہ کے حالات متاثر ہوجائیں ۔ ضرورت پڑنے پر اسرائیل کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہئے ۔