مرکزی وزیرداخلہ کے سیکوریٹی عملہ چوکس ہوگیا اور کار کے شیشے توڑ دیئے گئے، ڈاکٹر لکشمن نے مذمت کی
حیدرآباد ۔ 17 ستمبر (سیاست نیوز) مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کے گاڑیوں کے قافلے (کانوے) کے سامنے اچانک ایک کار رک گئی جس سے تھوڑی دیر کیلئے سنسنی پیدا ہوگئی، جس پر امیت شاہ کا سیکوریٹی فورسیس فوری متحرک ہوگیا اور کار کے شیشوں کو توڑ پھوڑ دیا۔ شہر حیدرآباد میں مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کا دورہ تھا۔ سکندرآباد پریڈ گراؤنڈ پر مرکزی حکومت کے لبریشن ڈے تقریب میں مہمان خصوصی شرکت کرنے کے بعد وہ ہریتا پلازا میں منعقدہ پارٹی قائدین کے اجلاس میں شرکت کیلئے روانہ ہوگئے جہاں سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جس سے سیکوریٹی فورسیس چوکنا ہوگیا۔ جیسے ہی امیت شاہ کی گاڑی ہریتا پلازا کے پاس پہنچی، وہاں اچانک ایک کار امیت شاہ کے کانوے کے سامنے آ کر رک گئی، جس سے امیت شاہ کا کانوے آگے نہیں بڑھ سکا۔ کار میں موجود شخص نے کار کو بازو نا ہٹانے پر امیت شاہ کا سیکوریٹی عملہ برہم ہوگیا اور اس کار کے شیشوں کو توڑپھوڑ دیا۔ پولیس نے امیت شاہ کے کانوے کے سامنے گاڑی روکنے والے شخص کی سرینواس کی حیثیت سے شناخت کی ہے جس کا ضلع منچریال کے کاغذنگر سے تعلق بتایا گیا ہے۔ اس واقعہ پر بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر لکشمن نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور تلنگانہ حکومت سے استفسار کیا کہ مرکزی وزیرداخلہ کا تحفظ نہیں ہے تو عام لوگوں کا کیا تحفظ کیا جائے گا۔ چند دن قبل آسام کے چیف منسٹر کے تحفظ میں لاپرواہی برتی گئی۔ سیکوریٹی ناکامی کی تلنگانہ حکومت ذمہ داری قبول کریں اس کی تحقیقات کراتے ہوئے سخت کارروائی کریں۔ن