امیر شہر کا نشہ اُترنے والا ہے

   

رشیدالدین
کیا بی جے پی کے زوال کا آغاز ہوچکا ہے ؟ کیا امیت شاہ کا وکٹ بھی گرنے والا ہے؟ کیا Gen-Z سے مودی حکومت ڈر گئی ہے ؟ ملک کے سیاسی حلقوں میں یہ سوالات تیزی سے گشت کر رہے ہیں اور کیوں نہ ہو اس لئے Gen-Z نے صرف ایک ماہ کے عرصہ میں ملک کا سیاسی نقشہ تبدیل کردیا۔ جنتر منتر پر کاکروچوں کے جمع ہوتے ہی حکومت کے ایوانوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ۔ کل تک جن کے رعب اور دبدبہ کے ہر سمت چرچے تھے ، آج وہ چہرہ چھپانے پر مجبور ہے اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن پر طنز کسنے والے خود پارلیمنٹ سے غائب ہیں۔ کسی نے یہ سوچا نہیں تھا کہ ایک دن وہ بھی آئے گا جب نریندر مودی اور امیت شاہ پر خوف طاری ہوگا۔ ایک طرف Gen-Z اور دوسری طرف راہول گاندھی کی زیر قیادت متحدہ اپوزیشن نے مودی حکومت کا عملاً محاصرہ کرلیا ہے ۔ جو حکومت 12 برسوں تک اپوزیشن اور عوام کو بے خاطر کرتی رہی اسے آخر کار کاکروچوں کے آگے جھکنا پڑا اور دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لینا پڑا۔ Gen-Z کے اس حملہ سے مودی حکومت اور بی جے پی ابھی سنبھل نہیں پائی تھی کہ تین ریاستوں کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو دو اسمبلی نشستوں پر شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بہار کی بانکی پور میں جن سوراج پارٹی کے سربراہ پرشانت کشور نے بی جے پی کو چاروں خانے چت کردیا۔ مدھیہ پردیش کی داتیا اسمبلی نشست پر کانگریس نے قبضہ کیا جبکہ بی جے پی کو گجرات کی منجل پور نشست پر اکتفاء کرنا پڑا۔ بظاہر یہ محض تین اسمبلی نشستوں کا ضمنی چناؤ تھا لیکن نتائج نے بی جے پی اور مودی حکومت کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ Gen-Z کی ناراضگی کا اثر دہلی کے جنتر منتر سے دوسری ریاستوں میں پھیلنے لگا ہے ۔ کسی بھی الیکشن کے نتائج کے بعد جیت سے زیادہ جب ہار کے چرچے ہونے لگیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ عوام سبق سکھانے پر اتر آئے ہیں۔ بہار کی بانکی پور نشست بی جے پی کے لئے وقار کا مسئلہ تھی اور پارٹی کے غرور اور تکبر کا یہ عالم تھا کہ قائدین کہہ رہے تھے کہ اگر کتے بلی کو بھی ٹھہرایا جائے تو وہ بھی جیت جائیں گے۔ کتے بلی کے ریمارک کا بہار کے Gen-Z نے کچھ ایسا جواب دیا کہ مودی ، امیت شاہ ، موہن بھاگوت اور بی جے پی کے قومی صدر نتن نبن کے ہوش اڑگئے اور ان کی آنکھوں میں زوال کا منظر گشت کرنے لگا۔ بہار اسمبلی چناؤ میں 10 ماہ قبل پرشانت کشور کی پارٹی کو ایک بھی نشست نہیں ملی تھی اور بیشتر نشستوں پر جن سوراج پارٹی کے امیدواروں کی ضمانت بھی نہیں بچی لیکن 10 ماہ بعد ایسا کیا ہوگیا کہ قومی صدر نتن نبن کی نشست بھی بی جے پی نہیں بچا پائی۔ بانکی پور بی جے پی کا قلعہ تھا جہاں 1995 سے بی جے پی نے 9 مرتبہ کامیابی حاصل کی ۔ نتن نبن اس نشست سے 5 مرتبہ کامیاب ہوئے ، ان سے قبل ان کے والد 4 مرتبہ اسی نشست سے منتخب ہوئے تھے۔ بانکی پور سے نتن نبن پارٹی کے قومی صدر کے عہدہ تک پہنچے لیکن بہار میں حکومت اور مرکز میں مودی۔امیت شاہ جیسی ناقابل تسخیر طاقتوں کے باوجود نشست کو بچا نہیں پائے ۔ بی جے پی کے 200 ارکان پارلیمنٹ اور فلمی ستاروں نے انتخابی مہم میں حصہ لیا ۔ الیکشن کمیشن اور سرکاری مشنری بھی ساتھ تھی لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جنہیں کاکروچ کہہ کر حقیر تصور کیا گیا ، قدرت نے ان کے ذریعہ ہی بی جے پی کے غرور کا سر نیچا کردیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جنتر منتر پر جس طرح نوجوانوں پر پولیس کے ذریعہ ظلم ڈھایا گیا ، لاٹھی چارج ، آنسو گیس ، پیلٹ گن ، کیل دار لاٹھیاں ، لاٹھیوں میں برقی شاک اور لڑکیوں کی بے حرمتی کا رائے دہندوں نے بدلہ لے لیا۔ پرشانت کشور تو ایک علامت تھے لیکن اصلی کارنامہ Gen-Z اور ان کے والدین اور سرپرستوں کا ہے، جنہوں نے جنتر منتر پر ہوئی بربریت کا بدلہ لیا۔ طلبہ اور نوجوانوں نے بانکی پور سے بی جے پی کے خلاف بغاوت کا بگل بجادیا ہے اور اب ملک کے دیگر حصوں میں بی جے پی کی خیر نہیں۔ بانکی پور سے شکست نے چیف منسٹر سمراٹ چودھری کے سیاسی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے ۔ بہار کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بی جے پی کا چیف منسٹر بن گیا اور سیاسی چال کے ذریعہ یہ کرسی نتیش کمار سے چھین لی گئی۔ سمراٹ چودھری کا سیاسی سے زیادہ کریمنل بیاک گراؤنڈ بتایا جاتا ہے ۔ وہ کئی سنگین مقدمات میں ملوث ہیں اور 10 ویں جماعت کی بھی تعلیمی قابلیت نہیں ہے ۔ سمراٹ چودھری کی قابلیت اور صلاحیت کا اندازہ ان کے اعلان سے کیا جاسکتا ہے ۔ سمراٹ چودھری نے بہار میں فزکس ، کمیسٹری اور میاتھیمٹکس کی یونیورسٹیز قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ یہ محض مضامین ہیں اور ان کی یونیورسٹی دنیا میں کہیں نہیں۔ ظاہر ہے کہ جس نے اسکول ہی نہ دیکھا ہو وہ یونیورسٹی کے بارے میں کیا جانے ۔ کسی نے گمان نہیں کیا تھا کہ جنتر منتر کے حالات اس قدر تیزی سے تبدیل ہوجائیں گے کہ حکومت نوجوانوں کو جواب دینے کے موقف میں نہیں رہے گی۔ گزشتہ 12 برسوں تک بی جے پی مرکز میں جس چہرہ کے سہارے حکومت کرتی رہی اور زوال کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس چہرہ کے بھرم کو Gen-Z کے آکروش نے ڈھادیا ۔ اب تو Gen-Z کے ساتھ Gen-Alpha بھی میدان میں دکھائی دے رہا ہے۔ ملک کے الگ الگ شہروں میں Gen-Z اپنے مسائل پر مورچہ سنبھال چکے ہیں۔ جھارکھنڈ میں تقررات کے امتحانی پرچوں کے افشاء کے خلاف طلبہ کا ایجی ٹیشن شدت اختیار کرچکا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی اور کانگریس نے احتجاجی طلبہ کی تائید کا اعلان کیا ۔ ملک میں Gen-Z کے اس سیلاب کو روکنا آسان ہی نہیں بلکہ ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے Gen-Z نے حکومت کو ڈرا دیا ہے ۔ اسی خوف سے امیت شاہ پارلیمنٹ میں داخلہ سے گھبرا رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی جو ہر پارلیمنٹ سیشن میں اپنی لفاظی اور تک بندی کے ذریعہ اپوزیشن پر طنز کستے رہے، وہ بھی پارلیمنٹ میں کچھ بھی بولنے سے ڈر رہے ہیں۔ نریندر مودی نے Gen-Z کو خوش کرنے کیلئے انسٹگرام پر ریلز کا سہارا لیا ہے ۔ گزشتہ 12 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب امیت شاہ مسلسل 16 دن پارلیمنٹ سے غائب رہے ۔ وہ روزانہ پارلیمنٹ آرہے ہیں لیکن اپنے آفس تک محدود ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے ’’امیت شاہ جواب دو ‘‘ کے نعرہ پر مشتمل بیانر روزانہ پارلیمنٹ کے باہر دکھایا جا رہا ہے لیکن شائد جاریہ سیشن میں وہ دن نہیں آ ئے گا جب امیت شاہ جواب دینے کیلئے پارلیمنٹ میں آئیں گے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گودی میڈیا میں ہمت نہیں کہ وہ امیت شاہ کی غیر حاضری کا ذکر بھی کرے۔ حکومت کی چاٹوکاری کی حد ہوگئی کہ امیت شاہ کے پارلیمنٹ پہنچنے کی خبر کو Flash کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ امیت شاہ پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ راہول گاندھی کہاں ہیں سوال کرنے والا گودی میڈیا امیت شاہ کہاں ہے پوچھنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دپکے سے جھارکھنڈ نہ جانے پر گودی میڈیا سوال کر رہا ہے لیکن گزشتہ 16 دنوں سے امیت شاہ کی غیر موجودگی پر سوال کر کے دکھائیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جنتر منتر پر پولیس مظالم کے معاملہ میں امیت شاہ پھنستے جارہے ہیں۔ اپوزیشن ان کے استعفیٰ کے علاوہ کسی اور بات پر سمجھوتہ کیلئے تیار نہیں۔ حکومت پر راہول گاندھی کا خوف کچھ اس طرح طاری ہے کہ پریاگ راج میں ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی۔ کاکروچوں کے میدان میں آتے ہی گودی میڈیا کے مالکین اور اینکرس بھی خوفزدہ ہیں۔ عدلیہ بھی سنبھل سنبھل کر ریمارکس کر رہا ہے اور نوکر شاہی اپنے مستقبل کو لے کر پریشان ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے ستمبر سے ملک بھر میں باقاعدہ تحریک کا اعلان کیا ہے۔ ’’کیا بولتی پبلک‘‘ کے عنوان سے کاکروچ جنتا پارٹی کے قائدین ملک بھر کا دورہ کرتے ہوئے طلبہ کے مسائل سے واقفیت اور تعلیمی شعبہ میں اصلاحات کے لئے رائے حاصل کریں گے۔ پارٹی کے ایجنڈہ میں تعلیمی اصلاحات، روزگار ، الیکشن کمیشن کی جوابدہی اور عدلیہ کی غیر جانبداری جیسے موضوعات ہیں۔ ملک کے حالات پر ندیم شاد نے کیا خوب کہا ہے ؎
امیر شہر کا نشہ اُترنے والا ہے
ہمارے جسم کا اک زخم بھرنے والا ہے