اندرا گاندھی زندہ ہوتیں تو فرقہ پرست بی جے پی پر پابندی عائد کر دیتیں : گہلوٹ

   

جئے پور 15 جون ( ایجنسیز ) راجستھان کے سابق چیف منسٹر اشوک گہلوٹ نے کہا کہ ملک اس وقت خطرناک حالات سے گزر رہا ہے اور اگر سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی آج زندہ ہوتیں تو بی جے پی جیسی فرقہ پرست جماعتوں پر پابندی عائد کر دیتیں۔ جے پور میں ایک ایوارڈ تقریب سے خطاب میںانہوں نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کوتنقید کا نشانہ بنایا۔اشوک گہلوٹ نے کہا کہ اپنے 50 سالہ عوامی زندگی میں انہوں نے کبھی ایسے سنگین حالات نہیں دیکھے۔ ان کے مطابق بی جے پی ترقی اور عوامی فلاح کو پس پشت ڈال کر مذہب کی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام بی جے پی کی پالیسیوں اور فریب کو نہ سمجھ سکے تو مستقبل میں اس کے نتائج خود عوام کو بھگتنا پڑیں گے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت دانستہ مذہبی کشیدگی اور فسادات کو فروغ دے رہی ہے۔ گہلوٹ نے سوال کیا کہ یو پی انتخابات میں بی جے پی نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ کیوں نہیں دئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا عناصر کو مشتعل کر کے اقتدار برقرار رکھنا ہی بی جے پی کا مقصد ہے، اور اگر اندرا گاندھی جیسی مضبوط قیادت آج موجود ہوتی تو وہ بی جے پی پر پابندی عائد کر دیتیں۔انہوں نے کہا کہ کیا ایک سیاسی جماعت صرف ہندوتوا ایجنڈے پر ہی چل سکتی ہے؟ کیا سیاست صرف ہندوؤں کے نام پر کی جائے گی؟گہلوٹ کے بیان پر بی جے پی نے کانگریس پر ہندو مخالف ذہنیت رکھنے اور مسلمانوں کی خوشنودی کی سیاست کا الزام لگایا۔