نیویارک: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کے اس اعلان کا جواب دیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی “انروا” کی سہولت کاری سے متعلق معاہدہ ختم کر دے گا۔انروا غزہ کی پٹی میں امداد فراہم کرنے والا مرکزی ذریعہ ہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوڑارک کے مطابق انتونیو گوتریس نے پیر کی شام ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ انروا ایجنسی بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا کوئی متبادل موجود نہیں۔اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بھیجے گئے ایک خط میں متنبہ کیا تھا کہ وہ انروا کو فلسطینی اراضی میں کام کرنے کی اجازت سے متعلق سمجھوتا ختم کر دے گا۔ یہ سمجھوتا 1967 میں مشرق وسطی کی جنگ ختم ہونے کے بعد سے نافذ العمل ہے۔اس سے قبل اسرائیلی پارلیمنٹ نے دو قانونی بل منظور کیے تھے جن کے مطابق فسلطینی اراضی میں انروا کے کام کرنے پر پابندی ہو گی۔ یہ دونوں قوانین 90 روز بعد نافذ العمل ہوں گے۔اسٹیفن ڈوڑارک نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے منظور کیے گئے قوانین مکمل طور پر نافذ کیے اور انروا کا کام کرنا ممکن نہ رہا تو پھر اسرائیل فلسطینیوں کو انسانی امداد اور خدمات کے علاوہ تعلیم اور طبی دیکھ بھال فراہم کرنے کا ذمے دار ہو گا۔