جامع مسجد عالیہ میں تاریخ اسلام کی نشست ، ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد کا لکچر
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( راست ) موجودہ دور جمہوریت میں جہاں دستور اور قانون کے ذریعہ انسانی حقوق کے تحفظ کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس تہذیب یافتہ عہد میں انسانی حقوق کی پامالی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ عالمی سطح سے لے کر ملکی سطح تک حقوق انسانی کی حفاظت ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کا تعلق انسان کے ان فطری حقوق سے ہے جس کے ذریعہ ایک فرد آزادانہ ماحول میں رہتے ہوئے اپنی شخصیت کو نکھار سکتا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں انسانی حقوق کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اس کے تحفظ کی ضمانت بھی دی گئی۔ انسانی حقوق بلالحاظ مذہب، ذات، زبان، جنس و علاقہ سماج میں رہنے والے ہر فرد کو حاصل ہوتے ہیں۔ ہر سال 10 ڈسمبر کو عالمی یوم انسانی حقوق منایا جاتا ہے۔ اس دن ساری دنیا میں اس بات کا عزم کیا جاتا ہے کہ ہر حال میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ہر سطح پر کوشش کی جائے گی۔ یہ دن اقوام متحدہ کی جانب سے 10 ڈسمبر 1948 کو جاری کئے گئے اس منشور کی یاد میں منایا جاتا ہے جسے عالمی انسانی حقوق کے اعلامیہ کا نام دیا گیا۔ اس اعلامیہ کے ذریعہ اس بات کا اعلان کیا گیا کہ انسانی حقوق کی برقراری اور اس کا تحفظ حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔30 دفعات پر مشتمل اس عالمی منشور پر اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک نے دستخط کی اور اسے اپنے اپنے ممالک میں جاری و نافذ کرنے کا عہد کیا۔ انسانی حقوق کے اس منشور میں کہا گیا کہ تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں لہذا سب کے ساتھ مساویانہ سلوک روا رکھا جائے گا۔ کسی بھی امتیاز کے بغیر سب کو یکساں مواقع حاصل رہیں گے۔ قانون کی نگاہ میں سب برابر رہیں گے۔ کسی بھی شخص کو بلاجواز گرفتار نہیں کیا جائے گا اور کسی فرد کی شخصی زندگی میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ ہر فرد کو عقیدہ اور عبادت کی آزادی حاصل ہوگی۔ تمام افراد کو اظہار خیال کا حق حاصل ہوگا۔ اس طرح مختلف نوعیت کی آزادیوں میں تسلیم کیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس عالمی انسانی حقوق کو 74 سال پہلے منظور کیا گیا اس پر دیانتداری سے عمل کیا گیا؟۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد سابق اسوسی ایٹ پروفیسر سیاسیات نے جامع مسجد عالیہ کے کانفرنس ہال میں تاریخ اسلام کی 983 ویں نشست میں ’’ انسانی حقوق کا تحفظ ۔ تاریخ کے آئینہ میں ‘‘ کے عنوان پر لکچر دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عالمی منشور کے ہوتے ہوئے بھی انسانی حقوق کی بے دردی سے پامالی ہورہی ہے۔ مظلوموں اور کمزوروں کے حقوق سلب کرلئے جارہے ہیں۔ حکومت سے سوال کرنا غداری مانا جارہا ہے، اظہار خیال کی آزادی چھین لی جارہی ہے۔ جناب غلام یزدانی کنوینر نے محافل کی غرض و غایت بتاتے ہوئے عوام الناس اور بالخصوص نوجوانوں سے شرکت کی خواہش کی۔ مقرر کی دعا پر نشست کا اختتام ہوا۔