سونیا گاندھی کو نوٹس کی مخالفت، گریٹر حیدرآباد قائدین کے اجلاس میں فیصلہ
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی (سیاست نیوز) انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے صدر کانگریس سونیا گاندھی کو طلب کئے جانے کے خلاف کانگریس پارٹی 21 جولائی کو حیدرآباد میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے دفتر کے روبرو احتجاج منظم کرے گی۔ گریٹر حیدرآباد کانگریس قائدین کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انجن کمار یادو ، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی ، ایم ششی دھر ریڈی ، ملو روی اور جی نرنجن نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت انتقامی کارروائیوں کے تحت سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرضی شکایت کو بنیاد بناکر سنیا گاندھی اور راہول گاندھی کو نوٹس جاری کی گئی ۔ جس خاندان نے ملک کیلئے قربانیاں دی ہیں، انہیں تحقیقات کے دائرہ میں شامل کرنا افسوسناک ہے۔ 21 جولائی کو صبح 10 بجے نکلس روڈ پر واقع مجسمہ اندرا گاندھی سے ریالی کا آغاز ہوگا جو بشیر باغ میں واقع انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ آفس پہنچ کر احتجاج میں تبدیل ہوجائے گی۔ عوام اور کانگریس کارکنوں سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ ڈاکٹر گیتا ریڈی نے کہا کہ مخالف آوازوں کو بی جے پی حکومت کچلنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ گاندھی خاندان مقدمات سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ گاندھی خاندان نے ملک کے لئے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی جیسی شخصیتوں کو قربان کیا ہے۔ اجلاس میں گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کانگریس پارٹی کے استحکام کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ سینئر قائدین ملو روی ، جی نرنجن ، ڈاکٹر شراون ، انیل کمار یادو ، سنیتا راؤ ، وجیہ ریڈی اور حیدرآباد کے مختلف اسمبلی حلقہ جات کے انچارج قائدین نے شرکت کی۔ ر