انگلینڈ میں بنی سنچری کا خاص مقام

   

برمنگھم۔ ہندوستان کے سینئر آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کا خیال ہے کہ انگلینڈ میں سخت حالات میں سنچری بنانے سے نہ صرف بیٹر کے طور پر ان کی ساکھ بڑھے گی بلکہ ان کے کیریئر میں ان کا اعتماد بھی بڑھے گا۔جڈیجہ نے 194 گیندوں پر 104 رنز کی اننگز کھیلی اور رشبھ پنت (111 گیندوں پر 146رنز) کے ساتھ چھٹی وکٹ کے لیے 222 رنز کی شراکت داری کی جس سے ہندوستان کو انگلینڈ کے خلاف پانچویں اور آخری ٹسٹ میں پہلی اننگز میں پانچ وکٹ پر 98 کی نازک صورتحال سے باہرنکلنے میں مدد ملی۔ جڈیجہ کی بیرون ملک پہلی سنچری ہے۔ انہوں نے ایجبسٹن میں شاندار سنچری کے بعد کہا کہ میں بہت خوش ہوں کہ میں نے ہندوستان سے باہر سنچری بنائی اور وہ بھی انگلینڈ میں۔ یہ ایک کھلاڑی کے لیے بڑی بات ہے۔جڈیجہ نے کہا کہ میں انگلینڈ میں مشکل حالات میں اسکور کی گئی اس سنچری کو اعتماد میں اضافے کے طور پر لوں گا۔ جڈیجہ کی بیٹنگ میں گزشتہ سالوں میں کافی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں کامیاب ہونے کے لیے بیٹر کے لیے سب سے اہم چیز گیند کا اندازہ لگانے کی صلاحیت ہے۔انگلینڈ میں آپ کو اپنے جسم کے قریب کھیلنا پڑتا ہے کیونکہ اگر آپ کور ڈرائیوز اور اسکوائر ڈرائیور کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو وکٹ کے پیچھے اور سلپ میں آوٹ ہو جانے کے خدشات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا لہذا میری توجہ آف اسٹمپ سے باہر جانے والی گیندوں کو چھوڑنے پر تھی۔ میں نے سوچا کہ میں ان گیندوں کو ماروں گا جو میرے قریب ہوں گی اور میں خوش قسمت تھا کہ میں نے جو بھی گیند کھیلی وہ میرے قریب تھی۔ آپ کو اپنے آف اسٹمپ کو جاننا ہوگا اور آف اسٹمپ سے باہر جانے والی گیندوں کو جانے دینا ہوگا۔ اپنے کیریئر کی دوسری سنچری بنانے والے جڈیجہ نے کہا انگلینڈ کے حالات میں گیند سوئنگ ہوتی ہے اس لیے آپ کو اپنی بیٹنگ کو نظم و ضبط میں رکھنا ہوگا۔ آپ کو چوتھے اور پانچویں اسٹمپ کی طرف جانے والی گیندوں کو کھیلنے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ 40، 50 اور 70 پر آپ اچھی گیند پر آؤٹ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہمیں سوچ رہا تھا کہ اگر مجھے اچھی گیند ملی تو میں کچھ نہیں کر سکتا لیکن کم ازکم مجھے برے شاٹس کھیلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور باؤنڈری لگانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر گیند میری حد میں آتی ہے تو میں اسے ماروں گا۔ سوراشٹر کے آل راؤنڈر نے کہا کہ وہ ٹیگ پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ میں اپنے آپ کو کوئی ٹیگ نہیں دینا چاہوں گا۔ ٹیم کی جو بھی ضرورت ہے اس کے مطابق کھیلنے کی کوشش کروں گا۔ ایک آل راؤنڈر کے طور پر ایسے حالات ہوتے ہیں جب آپ کو ٹیم کے لیے رنز جوڑنے اور میچ بچانے یا جیتنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا بولنگ میں آپ سے وکٹ لینے کی امید کی جاتی ہے۔ میری کوشش ہے کہ ٹیم کو جو بھی ضرورت ہو وہ میں پوری کروں۔