حکومت کے احکام جاری ۔ بلدی اداروں کی جانب سے تعمیرات کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی
حیدرآباد: حکومت نے اوقافی جائیدادوں و اراضیات کے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے احکامات جاری کئے ہیں۔ بلدی اداروں کی جانب سے اوقافی اراضیات پر تعمیرات کے سلسلہ میں کوئی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اسمبلی میں 11 ستمبر کو ریونیو ایکٹ پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے یہ تیقن دیا تھا ۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے جی او ایم ایس 15 جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے عہد کی پابند ہے ۔ جی او کے مطابق رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے سیکشن 22-A کے تحت وقف جائیدادوں کے رجسٹریشن پر روک لگادی گئی ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ وقف جائیدادوں کی تفصیلات مینجنگ ڈائرکٹر دھرانی پورٹل ، انسپکٹر جنرل رجسٹریشن اسٹامپس کے حوالے کریں گے جو وقف جائیدادوں کو رجسٹریشن پر امتناع سے متعلق جائیدادوں میں شامل کریں گے اور انہیں آٹو لاک کیا جائے گا ۔ وقف جائیدادوں کی تفصیلات ضلع کلکٹرس ، میونسپل کمشنرس اور پنچایت سکریٹریز کو روانہ کی جائیں گی جس کے بعد کارپوریشنوں ، میونسپلٹیز اور گرام پنچایتوںکی جانب سے تعمیرات کیلئے کوئی اجازت نامہ جاری نہیں کیا جائے گا ، سوائے ان جائیدادوں کے جن کی نشاندہی محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کی جائے ۔ تمام اداروں کو احکامات پر سختی سے عمل آوری کا پابند کیا گیا۔