اُلو

   

پیارے بچو! تم نے درختوں پر بیٹھے ہوئے بہت سے پرندوں کو دیکھا ہوگا مگر تمہیں اُلو کو دیکھنے کا موقع بہت کم ملا ہوگا، اس کی وجہ یہ ہے کہ الو دن میں اپنے گھونسلے سے باہر نہیں نکلتا۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ رات میں اپنے گھونسلے سے نکلتا ہے۔ بعض ماہرین نے یہ بات لکھی ہے کہ چونکہ الو اپنی آنکھوں کو بہت خوبصورت سمجھتا ہے، اس لئے وہ رات ہی میں باہر نکلتا ہے اور دن میں باہر نہیں نکلتا کہ کہیں اس پر نظر نہ لگ جائے۔ عربی زبان میں الو کو ’بوم‘ کہتے ہیں، ویسے الو کو ہامۃ صدی ، ضوع وغیرہ بھی کہا جاتا ہے مگر جب تم الو کا عربی میں ایک اور نام سنوگے تو تمہیں تعجب ہوگا وہ ہے غراب اللیل یعنی رات کا کوا عرب کے لوگ الو کو رات کا کوا بھی کہتے ہیں۔ الو کو یہ نام اسی لئے دیا گیا ہے کہ وہ رات کا راجہ ہوتا ہے، الو رات کی اندھیری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چڑیوں، چوہوں ، چھپکلیوں وغیرہ کا شکار کرتا ہے۔ الو کی عادت یہ ہے کہ یہ ہر پرندے کے گھونسلے میں گھس کر اس کو نکال کر اس کے بچوں یا انڈوں کو کھاتا ہے۔ الو کا حملہ بھرپور ہوتا ہے ۔ کوئی پرندہ اس کے حملے کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ الو رات بھر نہیں سوتا ، الو کو جب دن میں دوسرے پرندے دیکھ لیتے ہیں تو اس کو مار ڈالتے ہیں۔ دشمنی کی وجہ سے الو کے پروں کو نوچ ڈالتے ہیں۔ بعض شکاری لوگ الو کو اپنی جال میں اسی لئے رکھتے ہیں تاکہ پرندے الو کو دیکھ کر جمع ہوجائیں اور جال میں پھنس جائیں۔ بچو! عموماً لوگ اُلو کو منحوس سمجھتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ کی بنائی ہوئی کوئی چیز منحوس نہیں ہے ۔ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے الو کو منحوس سمجھنے سے روکا ہے، اس لئے اگر تم الو کو اپنے گھر پر بیٹھے دیکھ لو تو یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ الو منحوس ہے نہ کوئی مہینہ منحوس ہے اور نہ کوئی پرندہ منحوس ہے۔بچو! اُلو تو کئی قسم کے ہوتے ہیں مگر ہر اُلو تنہائی پسند ہوتا ہے یعنی اُلو سب کے ساتھ مل کر نہیں رہتا بلکہ وہ ہمیشہ اکیلے رہنے کو پسند کرتا ہے اور الو، کو ؤں کا سخت ترین دشمن ہوتا ہے۔ الو کی رگ رگ میں کوے سے دشمنی ہوتی ہے۔ قدرت نے ایک ایسا نظام بنایا ہے کہ اگر کوئی جانور گندگی پیدا کرتا ہے تو دوسرا جانور اس گندگی کو دور کرتا ہے یعنی ایک جانور دوسرے جانور کو مارتا ہے، الو کی پسندیدہ غذا، چوہے ہیں جو رات کو کھیتوں میں فصل کو بڑا نقصان پہنچاتے ہیں اور ہمارا سارا اَناج کھاجاتے ہیں یا تباہ کردیتے ہیں۔ ہر رات الو کئی چوہوں کو مار کر کھالیتا ہے، اس طرح کھیتوں کی دیکھ بھال بھی کرتا ہے اور اپنا پیٹ بھی بھرلیتا ہے۔