گزشتہ تین برسوں سے فرقہ پرستوں کی ہراسانی اور حملے، پولیس کا جانبدارانہ رویہ ، سنگھ پریوار کے کارکنوں کا تشدد
حیدرآباد 12 جون (سیاست نیوز) ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرتی مہم کا اثر دیہاتوں تک پہنچنے لگا ہے اور مسلم خاندانوں کو نقل مکانی کیلئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ مہاراشٹرا کے ضلع سانگلی ارالا موضع میں تقریباً 20 مسلم خاندانوں نے مبینہ ہراسانی اور ہجومی تشدد سے متاثر ہونے کے بعد اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا گیا کہ ہندوتوا تنظیموںکی جانب سے طویل عرصہ سے مسلم خاندانوں کو ہراسانی کا شکار بنایا جارہا تھا۔ گاؤں سے مسلمانوں کا صفایا کرانے منظم انداز میں مہم چلائی گئی اور انہیں نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ دنوں گاؤں میں ایک مسلم خاندان پر حملہ کے بعد خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا اور بیک وقت 20 مسلم خاندانوں نے گاؤں چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق ہراسانی کا شکار خاندانوں نے انصاف کیلئے ممبئی ہائی کورٹ کے کولا پور بنچ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا۔ مقامی حکام سے نمائندگی کرکے متاثرہ خاندانوں نے مسائل بیان کئے اور تحفظ فراہم کرنے کی مانگ کی۔ عابد ڈانگے نامی مقامی شخص کا کہنا ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ گاؤں میں کسی بھی دن ہجومی تشدد کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا اندیشہ برقرار ہے اور ہماری زندگی خطرہ میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں پر حملہ کے ذمہ دار افراد کا تعلق آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد سے ہے۔ مقامی افراد نے شکایت کی کہ گزشتہ تین برسوں سے مختلف وجوہات کا بہانہ بناکر مسلم خاندان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ 29 مئی کو ایک مسلمان زخمی شخص نے اپنی شکایت میں کہا کہ تقریباً 30 سے زائد افراد نے ان کے خاندان پر حملہ کیا ۔ پولیس کا رویہ جانبدارانہ رہا۔ سنگھ کے عناصر نے 28 اپریل کو ایک معمولی مسئلہ پر تنازعہ کھڑا کرکے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے اور گروپ کی شکل میں مسلم خاندانوں پر حملہ کیا گیا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ حملہ آور قابل اعتراض نعرے لگا رہے تھے ۔ مسلمانوں کو پاکستانی قرار دیتے ہوئے ہلاک کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ حکام نے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا لیکن متاثرہ خاندانوں کو شکایت کہ تحقیقات میں حملہ کے اصل ملزمین کی نشاندہی نہیں کی گئی اور گرفتار افراد کو ضمانت مل چکی ہے۔ حملہ آوروںکی گاؤں واپسی پر مقامی افراد نے جشن منایا۔ موضع آرالا کے مسلم خاندان اپنے تحفظ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور پولیس کے مخالف مسلم رویہ پر وہ گاؤں میں پرامن زندگی بسر کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ و ہجومی حملوں سے مسلم خاندانوں کو گاؤں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔1/k