دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج، 700 سے زائد افراد زیرحراست ،طلبہ تنظیموں کے ارکان شامل، کئی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کی بھی شرکت
نئی دہلی، 2 اکتوبر (ایجنسیز): دہلی میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل (SIR) کے خلاف جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں نے احتجاج کیا۔ جنتر منتر اور اس کے اطراف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس نے 700 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔احتجاج میں دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ آتشی، عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج اور سنجیو جھا، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ سمیت کئی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA)، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) اور نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (NSUI) سے وابستہ طلبہ بھی مظاہرے میں شریک ہوئے۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویڑن (SIR) کے تحت بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل سے ووٹروں کے جمہوری حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست اور قابل اعتماد بنانا ہے۔ اس تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ سے متعلق سافٹ ویئر کا جائزہ لینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔دہلی پولیس نے جنتر منتر پر مجوزہ اجتماع کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور علاقے میں پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ احتجاج کے پیش نظر مرکزی دہلی میں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے اور مختلف مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت بھی پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔عام آدمی پارٹی، انڈین یوتھ کانگریس اور مختلف طلبہ تنظیموں کے کارکن الگ الگ مقامات سے جنتر منتر کی جانب روانہ ہوئے، تاہم پولیس نے کئی مقامات پر انہیں روک دیا۔ اس دوران بڑی تعداد میں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں اور تنظیموں نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کی مانگ دہرائی۔ احتجاج کے باعث دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جس سے عوامی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ مرکزی دہلی کے متعدد میٹرو اسٹیشنوں پر عارضی طور پر داخلے اور اخراج پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، احتجاجی علاقے کے اطراف انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کر دی گئی تھیں۔ ایس آئی آر کے معاملے پر دہلی میں ہونے والا یہ احتجاج انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے طریقہ کار پر جاری وسیع تر بحث کا حصہ ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر وضاحت کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن انتخابی فہرستوں کو درست بنانے کے اپنے عمل پر زور دے رہا ہے۔