نیویارک : اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی اور سات دوسروں کے خلاف کروڑہا روپئے کی رشوت اسکیم میں امریکہ میں سیول اور فوجداری الزامات عائد کئے جانے کے بعد ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کافی طول پکڑسکتا ہے اور ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے جاسکتے ہیں اور ان کی امریکہ کو حوالگی کیلئے بھی کوششیں کی جاسکتی ہیں۔ ہندوستان کے دوسرے سب سے دولتمند ترین شخص گوتم اڈانی اور سات دوسروں بشمول ان کے بھتیجے ساگر اڈانی کے خلاف امریکہ محکمہ انصاف کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے آندھرا پردیش اور اوڈیشہ کی حکومتوں کو رشوت دیتے ہوئے کروڑہا ڈالرس مالیتی سولار برقی پراجیکٹس حاصل کئے ہیں جن کے ذریعہ کمپنی 20 سال میں 2 بلین ڈالرس کا نفع کماسکتی ہے ۔ اڈانی گروپ نے تاہم ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ امریکی استغاثہ کی جانب سے یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ گروپ تمام قوانین کی پاسداری کرتا ہے ۔ امریکی ماہر قانون بریون پیس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اڈانی اور سات دوسروں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کریں اور وہ جہاں کہیں قیام کرتے ہوں یہ وارنٹس پہونچائیں۔ ہندوستانی ۔ امریکی اٹارنی روی باترا نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں اڈانی کے وارنٹس پہونچائے جائیں اگر اس ملک کے ساتھ حوالگی معاہدہ ہے تو پھر اس ملک کو اس شخص کو حوالے کرنا پڑتا ہے ۔ ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت ریسیڈنٹ ملک کو اپنے قوانین کے مطابق اس معاہدہ کی پاسداری کرنی ہوتی ہے ۔ امریکہ اور ہندوستان کے مابین بھی مطلوب افراد کی حوالگی کا معاہدہ ہے ۔
گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی 265 ملین امریکی ڈالر رشوت کیس میں طلب
نیویارک ۔ اڈانی گروپ کے بانی اور چیئرمین گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر کو شمسی توانائی کے منافع بخش معاہدوں کو حاصل کرنے 265 ملین امریکی ڈالر (2,200 کروڑ )رشوت دینے کے الزام پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پر موقف بیان کرنے طلب کیا گیا ہے۔ سمن احمد آباد میں ان کی رہائش گاہوں‘ گوتم اڈانی کے شانتیون فارم اور ساگر اڈانی کے بوڈک دیو گھر پر بھیجے گئے تھے – جس کیلئے 21 دنوں کے اندر ایس ای سی کو جواب دینا ہوگا۔ نوٹس میں کہا گیاکہ 21 دنوں میںانہیں (SEC) کو منسلک شکایت کا جواب دینا ہوگا یہ قانونی صورتحال نیویارک کی ایک عدالت کی طرف سے ایک فرد جرم عائد کرنے کے بعدپیدا ہوئی ہے جس میں الزام لگایا گیا کہ اڈانی گروپ نے 2020 اور 2024 کے درمیان ہندوستانی عہدیداروں کو رشوت دی تھی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیو یارک ایسٹرن ڈسٹرکٹ کورٹ کے ذریعے 21 نومبر کو جاری کردہ نوٹس میں کہاگیا کہ اگر اڈانی جواب دینے میں ناکام رہتے ہیں توان کے خلاف بطور ڈیفالٹ فیصلہ درج کیا جائے گا۔ آپ کو اپنا جواب یا تحریک بھی عدالت میں داخل کرنی ہوگی۔ 62 سالہ گوتم اڈانی اور سات دیگر مدعا علیہان، بشمول ان کے بھتیجے ساگرجو کہ گروپ کے قابل تجدید توانائی یونٹ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ کے ڈائرکٹر ہیں، مبینہ طور پر تقریباً 2020 اور 2024 کے درمیان ہندوستانی سرکاری عہدیداروں کو تقریباً 265 ملین امریکی ڈالر رشوت ادا کی تھی ۔