اگر مجھے بیرون ملک گرفتارکیا گیا تو میرے لیے ’خصوصی دستے ‘تیار ہیں، نیتن کادعویٰ

   

واشنگٹن، 30 جولائی (یو این آئی)اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے د عویٰ کیا ہے کہ اگر انہیں بیرون ملک حراست میں لینے کی کوشش کی گئی تو ان کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے خصوصی دستے تیار ہیں۔آئندہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیتن یاہو کو نیویارک جانا ہے ۔وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات کے بعد امریکی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں نیتن یاہوکا کہنا تھا کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک ضرور جائیں گے ۔ اگر مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو میرے گرد خصوصی دستے موجود ہیں۔نیتن یاہو نے یہ واضح نہیں کیا کہ خصوصی دستے کیا کردار ادا کریں گے ، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا نیویارک کا دورہ منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔نیتن یاہوکا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر زہران ممدانی ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے ان کے خلاف جاری وارنٹ کا ذکر ہو رہا ہے ۔دی اکانومسٹ اور یوگووکے ایک حالیہ سروے میں پوچھا گیا کہ نیتن یاہو کو نیویارک آمد پر آئی سی سی کے وارنٹ کے تحت گرفتار کیا جانا چاہیے یا نہیں؟ اس پر 49 فیصد امریکی بالغ افرادکا خیال تھا کہ انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے ، جبکہ 27فیصد نے مخالفت کی اور 23 فیصد غیر یقینی کا شکار تھے ۔نیتن یاہو نے ممدانی پر یہودیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا اورکہا کہ وہ نیویارک کے شہریوں کو شہرکی یہودی آبادی کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے آئی سی سی کے گرفتاری وارنٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے عدالت کو بدعنوان اور برائی پر مبنی ادارہ قرار دیا اور کہا کہ آئی سی سی کی کارروائیاں مستقبل میں امریکی حکام اور فوجیوں کے خلاف بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے زبردست طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔علاقائی معاملات پر بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل معاہدہ ابراہیمی کو سعودی عرب تک وسعت دینے پر خوش ہوگا۔