ایران:حجاب مخالف مظاہروں میں 14 ہزار گرفتاریاں:اقوام متحدہ

   

نیویارک : ایک 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے دوران موت کے بعد 16 ستمبر سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران پرتشدد مظاہروں میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ایران میں انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب جاوید رحمان نے امریکی نیوز چینل سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہاکہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران مرد، خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق ان کی تعداد 14000 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد میں انسانی حقوق کے علمبردار، طلبا، وکلاء، صحافی اور سول سوسائٹی کے کارکنان شامل ہیں۔”خیال رہے کہ اسلامی جمہوریہ میں 16 ستمبر کو ایک 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مہسا امینی کو ایران کے سخت حجاب قانون پر مبینہ طور پر عمل نہ کرنے کے الزام میں اخلاقی پولیس نے گرفتار کرلیا تھا اور بعد میں پولیس حراست میں ہی ان کی موت ہو گئی۔ایرانی مظاہرین کی حمایت میں دنیا کے متعدد ملکوں میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔