پیرس : تہران میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران میں احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ غم و غصہ کی لہر اب پوری دنیا میں پہنچ گئی ہے۔اس غصہ کے اظہار کا سب سے نمایاں طریقہ خواتین کا بال کاٹنا بن گیا ہے۔ ’’عورت زندگی اور آزادی ہے‘‘ کے مقبول نعرے کے تحت ایران بھر میں خواتین نے بال کٹوانا شروع کر دئیے۔ان ایرانی خواتین سے اظہاریگانگت میں دیگر ملکوں کی خواتین نے بھی اپنے بال کٹوانے کی ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کردی ہیں۔مشہورفرانسیسی اداکارہ نے ایرانی خواتین سے اظہاریگانگت میں اپنے بال کٹوا دئیے تھے تو اب یورپی پارلیمنٹ کے سویڈش رکن عبیر سھلانی بھی بال کٹوانے والی خواتین میں شامل ہوگئی ہیں۔